اب 7 منٹ میں سامان کی ڈیلیوری — حیدرآباد کی فضاؤں میں اڑیں گے ڈرون، شہر میں نئی ٹیکنالوجی کا دھماکہ

حیدرآباد میں تیز رفتار ڈیلیوری نظام میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، جہاں آئندہ سال جولائی سے ڈرون کے ذریعے محض 7 منٹ میں سامان کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی اسکائی ایئر نے اپنی خدمات شروع کرنے کی تیاریوں کا اعلان کیا ہے۔

 

فی الحال شہر میں کسی بھی سامان کی ڈیلیوری کیلئے ٹریفک کے باعث 30 کلومیٹر فاصلے پر کم از کم ایک سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں، تاہم دہلی اور بنگلورو کے بعض علاقوں میں ڈرون کے ذریعے چند منٹوں میں ڈیلیوری ممکن بنائی جا چکی ہے۔ اسی طرز پر حیدرآباد میں بھی ہائپر لوکل ڈرون ڈیلیوری نیٹ ورک متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

 

اس نظام کے تحت ڈرونز کیلئے مخصوص فضائی راستے (ورچوئل اسکائی ٹنل) بنائے جائیں گے، جہاں سے وہ محفوظ طریقے سے گودام سے مقررہ مقام تک پہنچیں گے۔ جدید ان مینیجڈ ٹریفک سسٹم کے ذریعے موسم اور فضائی راستے کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ حکومت سے درکار سیکیورٹی اجازتیں بھی حاصل کی جائیں گی۔

 

ڈرونز مخصوص بیس اسٹیشنز سے اڑان بھریں گے اور منزل پر پہنچ کر تقریباً 20 میٹر کی بلندی سے پارسل کو محفوظ طریقے سے اسکائی پیڈ پر چھوڑیں گے، جہاں سے ڈیلیوری بوائے اسے صارف تک پہنچائے گا۔ ایک ڈرون تقریباً 10 کلوگرام وزن اٹھا سکتا ہے اور 30 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

ڈرونز میں 5جی ٹیکنالوجی کے ذریعے لائیو ٹریکنگ، خودکار نیویگیشن، اور سینسرز نصب ہوں گے جو راستے میں رکاوٹوں سے بچاؤ میں مدد دیں گے۔ مزید برآں، ہر ڈرون میں بلیک باکس اور ہنگامی صورتحال کیلئے پیراشوٹ سسٹم بھی موجود ہوگا۔

 

ماہرین کے مطابق اس جدید نظام سے نہ صرف ڈیلیوری کا وقت کم ہوگا بلکہ ہر ڈیلیوری پر تقریباً 520 گرام کاربن اخراج میں کمی آئے گی، جو ماحولیات کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *