کے کویتا کی مجوزہ نئی سیاسی جماعت کو مختلف تنظیموں کی بھرپور تائید و حمایت

کے کویتا کی مجوزہ نئی سیاسی جماعت کو مختلف تنظیموں کی بھرپور تائید و حمایت

ریاست تلنگانہ میں مکمل سماجی انصاف کے حصول تک جہد مسلسل کا عزم

دفتر تلنگانہ جاگروتی بنجارہ ہلز میں آج مجوزہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کے خصوص میں مختلف تنظیموں اور قائدین نے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سی پی یو ایس آئی مرکزی کمیٹی کےسکریٹری کودنڈم، ریاستی سکریٹری وینکنا، دلت بہوجن راجیہ ادھیکار کے کنوینر گُڈی پلی روَنّا، ماروجو ویرنّا کے ساتھی کشن نائک سمیت دیگر قائدین نے تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی تائید کا اعلان کیا۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ماروجو ویرنّا کے حامیوں کی حمایت انہیں زبردست حوصلہ اور طاقت فراہم کرےگی۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت خوش آئند ہے اور اسی طرح سیاست میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تین تا چار سال قبل وہ دہلی جا کر دھرنا دے چکی ہیں جس کے نتیجہ میں خواتین بل منظور ہوا،

 

تاہم اب اسی بل کو دوبارہ پیش کرنے کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف طبقات کو ملنے والے فوائد فراہم کرنے کے بجائے ہر معاملہ میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست طویل جدوجہد کے بعد حاصل کی گئی تھی اور اس دوران “بہوجن تلنگانہ” کا تصور بھی پیش کیا گیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ پروفیسر جیہ شنکر تلنگانہ جاگروتی کے رہنمایانہ اصولوں کے معمار تھے اور وہ خود ان کی بے حد مداح ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیہ شنکر نے واضح کیا تھا کہ پہلے جغرافیائی تلنگانہ حاصل کرنا ضروری ہے، اس کے بعد سماجی تلنگانہ کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کو 12 سال گزرنے کے باوجود سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہو سکا اور کئی طبقات آج بھی اقتدار سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے حالیہ سروے سے بھی یہ بات واضح ہوئی ہے کہ کئی برادریاں آج بھی اقتدار میں نمائندگی سے محروم ہیں، یہاں تک کہ دیہی سطح پر بھی کئی طبقات کو وارڈ ممبر یا سرپنچ بننے کا موقع نہیں ملا۔

 

کویتا نے کہا کہ ماروجو ویرنّا اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جب تک طبقات مضبوط نہیں ہوں گے، انہیں انصاف نہیں ملے گا، اسی لئے انہوں نے ذات پات پر مبنی تنظیموں کو مضبوط بنانے کی تحریک چلائی۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کو انصاف دلانے کے لئے ایسی تنظیموں کا مضبوط ہونا ضروری ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے “سب کو اقتدار” کا نعرہ بلند کیا، تب سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ہر مشکل نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے اور وہ ہر چیلنج کو ایک سبق کے طور پر لے رہی ہیں

 

۔ انہوں نے عہد کیا کہ تلنگانہ میں مکمل سماجی انصاف کے قیام تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔کویتا نے اعلان کیا کہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو ایک نئی سیاسی طاقت کے طور پر ان کی جماعت سامنے آئے گی، جو تلنگانہ کے علاقائی تشخص اور سماجی انصاف کے نظریے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماروجو ویرنّا جیسے عظیم شخصیت کے حامیوں کی حمایت ان کے لئے باعث مسرت ہے اور یہ حمایت ان کی تحریک کو مزید مضبوط بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران تقریباً ایک لاکھ سابق ماؤ نواز بی آر ایس میں شامل ہوئے تھے اور پارٹی کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا

 

۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس طرح وہ تلنگانہ تحریک کے کارکنوں اور شہداء کے خاندانوں کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، اسی طرح سابق ماؤ نوازوں کے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کریں گی۔کویتا نے کہا کہ اب جبکہ ماروجو ویرنّا کے حامی ان کے ساتھ آ گئے ہیں، تو انہیں روکنے کی طاقت کسی میں نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حامی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہیں اور سب کو مل کر تلنگانہ کے عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا چاہئے

 

۔انہوں نے کہا کہ “سرودیہ تلنگانہ” ان کا ہدف ہے، جہاں ہر فرد کی زندگی میں خوشحالی اور روشنی ہو، اور وہ عوام کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ اپنے مقصد کی جانب آگے بڑھتی رہیں گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *