
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل ( ایس آئی آر) پر سپریم کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ووٹر کو لسٹ میں برقرار رہنے کا حق حاصل ہے اور انتخابات کے دباؤ میں اس عمل کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے ووٹوں کی مبینہ حذف کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی اپیلیٹ ٹریبونل کے زیرِ غور ہے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن مناسب طریقہ کار کے بغیر نام خارج کر رہا ہے اور اپیلوں کی بروقت سماعت نہیں ہو رہی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹ کا حق صرف آئینی ہی نہیں بلکہ جذباتی معاملہ بھی ہے اور جمہوریت کی بنیاد ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹریبونل پر وقت کی سخت حد عائد نہیں کی جا سکتی اور محض بڑی تعداد میں ووٹرس کے اخراج کی بنیاد پر انتخابات کو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ اس کا براہِ راست اثر نتائج پر ثابت نہ ہو۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔
