تلنگانہ میں اوپن اسکول طلبہ کو اعلیٰ تعلیم میں داخلوں سے محرومی – مدرسوں کے ہزاروں طلبہ پریشان

حیدرآباد: تلنگانہ کے بھدرادری کتہ گوڑم ضلع کے اشواراؤ پیٹ سے تعلق رکھنے والی شیخ مدینہ نے آٹھ برس تک مدرسہ میں عالم اور فاضل کورسز کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ اوپن اسکول نظام کے تحت دسویں جماعت اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات نمایاں نشانات سے کامیاب کئے۔

 

استاد بننے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے شیخ مدینہ نے سخت محنت کی اور ریاستی سطح کے ڈی ای ای سیٹ (DEECET) امتحان میں 339 واں رینک حاصل کیا۔ تاہم داخلہ کے وقت منتظمین نے چوتھی سے نویں جماعت تک کے اسٹڈی سرٹیفکیٹس طلب کئے، جو ان کے پاس موجود نہیں تھے۔ اس شرط کے باعث ان کا ٹیچر بننے کا خواب خطرے میں پڑ گیا اور وہ شدید مایوسی کا شکار ہوگئیں۔

 

یہ مسئلہ صرف شیخ مدینہ تک محدود نہیں بلکہ اوپن اسکول طریقۂ تعلیم کے ذریعے دسویں اور انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے والے ہزاروں طلبہ کو اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

 

ریاست بھر میں ہر سال ہزاروں طلبہ اوپن ٹینتھ، اوپن انٹر اور اوپن ڈگری کے امتحانات کامیاب کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی طلبہ روایتی اسکولی تعلیم حاصل کئے بغیر براہِ راست امتحانات میں شرکت کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان کے پاس اسکولوں کے اسٹڈی سرٹیفکیٹس موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے انہیں اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

 

متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ منڈل ریونیو دفاتر سے ایم آر او کے تصدیق شدہ لوکل سرٹیفکیٹس حاصل کرتے ہیں، اس کے باوجود ڈی ای ای سیٹ، ای سیٹ، ایڈ سیٹ اور دیگر پیشہ ورانہ کورسوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

 

طلبہ کے مطابق جب وہ اس مسئلہ پر متعلقہ حکام سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں واضح جواب نہیں ملتا اور صرف یہ کہا جاتا ہے کہ موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔

 

اس صورتحال کے باعث ہر سال ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب انہوں نے اوپن اسکول نظام کے تحت تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اسکولوں کے اسٹڈی سرٹیفکیٹس کہاں سے لائیں۔ طلبہ اور والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن اسکول کے طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری طور پر واضح پالیسی وضع کی جائے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *