
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں بندرگاہوں اور بحری گزرگاہوں کی سلامتی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ سب کے لیے سیکورٹی ہوگی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔
ترجمان کے مطابق، ایرانی مسلح افواج ملک کے قانونی حقوق کے دفاع کو اپنا فطری اور قانونی فرض سمجھتی ہیں، اور ایران کی سرزمینی آبروں میں حاکمیت کا نفاذ ایرانی عوام کا مسلم حق ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ملکی سرحدوں کی حفاظت اور سلامتی کو پوری طاقت کے ساتھ یقینی بنائیں گی۔ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ دشمن سے وابستہ کوئی بھی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کا حق نہیں رکھتا، جبکہ دیگر تمام جہاز قواعد کی پابندی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دشمن کی جانب سے جاری خطرات کے پیش نظر ایران جنگ کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر مستقل نگرانی اور کنٹرول کا نظام برقرار رکھے گا۔
ترجمان نے امریکی پابندیوں کو غیرقانونی اور بحری قزاقی کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کی سلامتی کو چیلنج کیے جانے کی صورت میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
