اگر ہمارے بندگاہوں کو خطرہ ہوا تو خلیج کا کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گا، آبنائے ہرمز بند کرنے ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت رد عمل

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان پر ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ اگر ہمارے بندرگاہ خطرے میں ڈالے گئے تو خلیج کا کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گا۔

 

ہرمز میں جہازوں پر امریکی پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ “سمندری ڈاکہ زنی کے مترادف” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس آبی راستے کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک “مستقل نظام” نافذ کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد

 

چین نے کہا کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر توانائی کی سلامتی اور سپلائی کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ تمام فریقوں کو پُرسکون رہنا چاہیے اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

 

چینی حکومت کے ترجمان گوو جیاکن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ مستحکم اور بغیر کسی رکاوٹ کے برقرار رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ایران سے متعلق جنگ پر جرمنی کے چانسلر نے

 

کہا کہ اس سے ان کے ملک میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی دنیا کے ممالک کو طویل عرصے تک اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے

 

گا۔اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے تو ایران کی جانب سے دیگر ممالک کو کی جانے والی تیل کی سپلائی رک جائے گی۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ایران نے یومیہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کیا تھا

 

جبکہ اپریل میں اب تک یہ یومیہ 1.71 ملین بیرل ہے۔ سال 2025 میں اوسطاً یہ مقدار 1.68 ملین بیرل یومیہ رہی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *