
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی وزارت امور خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل دوبارہ ایران یا مقاومتی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کریں تو یمن جنگ میں عملی طور پر شامل ہونے کے لیے مکمل تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق یمنی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ مذاکرات میں ایرانی وفد کا مضبوط مؤقف تہران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے ایک قابل ذکر کامیابی ہے۔ واشنگٹن نے مذاکرات کی میز پر وہ نکات منوانے کی کوشش کی جنہیں وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کرسکا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقائی اتحاد کو کمزور کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ ناکام ہوچکے ہیں۔ صنعاء نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور بین الاقوامی پانیوں میں تناؤ بڑھانے کے اشاروں کو امریکی فوجی حکمتِ عملی کی ناکامی کی علامت قرار دیا۔
یمنی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ خطے یا سمندری راستوں میں کشیدگی بڑھائے تو اس کے عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات پڑسکتے ہیں۔
