ان حالات میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا ہے کہ اس ناکہ بندی کا اطلاق ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کا دورہ کرنے والے تمام ممالک کے بحری جہازوں پر ہوگا۔ تاہم غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور تیل و گیس کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ایران-امریکہ مذاکرات کی ناکامی سے تیل بازار میں زلزلہ، قیمتیں 100 ڈالر سے متجاوز، مہنگائی میں اضافے کا اندیشہ
