اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شکست ہوئی۔ روسی وزارت خارجہ ترجمان

نئی دہلی: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا کے مطابق اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شکست ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران پر کئے گئے یکطرفہ حملہ میں دونوں (امریکہ و اسرائیل) کی قریبی شکست

 

ہوئی ہے۔ انھوں نے اسپوتنک ریڈیو پر کہا کہ ’’ہمارے ملک نے شروع سے ہی اپنے پہلے بیانات میں کہا تھا کہ اس حملہ کو فوراً روکنا ضروری ہے۔ فوراً ایک سیاسی و سفارتی حل شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی جو مذاکرہ کے عمل پر مبنی

 

ہو اور جس میں سبھی فریقین کے حالات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔‘‘بہرحال جنگ بندی کا استقبال جرمنی، فرانس، یوکرین، برطانیہ اور اسپین جیسے ممالک نے بھی کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے تو اس جنگ بندی کے فیصلہ سے

 

راحت کی سانس لی ہے کیونکہ وہاں امریکی ٹھکانوں پر ایران لگاتار حملے کر رہا تھا۔ اس سے خلیجی ممالک میں جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ اب 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہونے پر فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے اسے بہت

 

اچھا قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’یہ معاہدہ علاقہ میں کشیدگی کم کرنے کی سمت میں مثبت پیش رفت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے تنبیہ دی کہ لبنان کی حالت انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے، اس

 

جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ پورے خطہ میں وسیع اور مستقل امن قائم کیا جا سکے۔جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرج کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کے ذریعہ جنگ کا مستقل حل نکالا جانا

 

چاہیے۔ دوسری طرف اسپین کے وزیر خارجہ نے ایران میں جنگ کا تو استقبال کیا لیکن لبنان میں حملے جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کی تنقید بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ 2 ہفتہ کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کے بعد بھی اسرائیل نے لبنان میں

 

اپنی زمینی مہم جاری رکھنے کا دعویٰ کیا اسے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ جوس مینوئل الباریز نے پبلک ریڈیو آر این آئی کو بتایا کہ ’’سبھی محاذ ختم ہونے چاہئیں اور سبھی محاذ کا مطلب لبنان بھی ہے۔‘‘

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *