یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تقریباً ایک ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد دو ہفتے کے لیے جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس عمل میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت کی جانب سے ثالثی کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران نے بھی اس جنگ بندی کو قبول کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کی کئی اہم شرائط مان لی گئی ہیں، جن میں خطے کے مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنا بھی شامل تھا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں روکنا بھی اس سمجھوتے کا حصہ ہونا چاہیے تھا، تاہم اسرائیل نے اس کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
