سرکاری دفاتر کرائے کی عمارتوں میں، حکومت کو ماہانہ لاکھوں کا نقصان

سرکاری دفاتر کرائے کی عمارتوں میں، حکومت کو ماہانہ لاکھوں کا نقصان

حکومتی احکامات کے باوجود نرمل، عادل آباد و دیگر اضلاع میں دفاتر منتقل نہ ہوسکے، بے ضابطگیوں کے الزامات

نمائندہ خصوصی صحافی خضر احمد یافعی

عادل آباد۔یکم/ اپریل (اردو لیکس) متحدہ ضلع عادل آباد ضلع کے مختلف اضلاع نرمل، عادل آباد، کمرم بھیم آصف آباد اور منچیریال میں کئی سرکاری دفاتر اب بھی کرائے کی نجی عمارتوں سے کام کر رہے ہیں، جس کے باعث حکومت کو ہر ماہ لاکھوں روپے کا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق نرمل ضلع میں مختلف محکموں سے وابستہ 12 دفاتر، بشمول خانہ پور سب رجسٹرار دفتر، کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔ اسی طرح عادل آباد میں محکمہ اوقاف کے اسسٹنٹ کمشنر، ضلع و سب رجسٹرار دفاتر اور اقلیتی رہائشی اسکول بھی نجی عمارتوں میں قائم ہیں، جبکہ منچیریال میں ٹرانسپورٹ محکمہ کا دفتر بھی کرائے کے احاطے میں کام کر رہا ہے۔

 

ریاستی حکومت نے تین ماہ قبل واضح ہدایت دی تھی کہ تمام سرکاری دفاتر کو نجی عمارتوں سے نکال کر سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا جائے، اور 20 دسمبر 2025 کے سرکلر میں کرایہ کی ادائیگی روکنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود کئی محکمے ان احکامات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

 

یہاں عادل آباد میں نئی کلکٹریٹ عمارت تاحال استعمال کے لئے دستیاب نہیں، جبکہ پرانی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے۔ کچھ دفاتر کو متبادل سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے، تاہم کئی محکمے اب بھی کرائے کے دفاتر میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض مقامات پر کرایہ کے معاہدے برقرار رکھنے کے لئے مبینہ طور پر رشوت کا لین دین ہوا ہے، جس کے باعث یہ سلسلہ جاری ہے۔ ضلعی تنظیم نو کے بعد نگرانی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے اور کرایہ کی ادائیگی کا عمل بے ترتیب ہو چکا ہے۔

 

ٹریژری ذرائع کے مطابق فروری کے بعد سے کرایہ کے بلوں کی ادائیگی بھی رکی ہوئی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو سرکاری خزانے کو مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *