عادل آباد میونسپل بجٹ 2026-27 منظور، تقریباً 158 کروڑ روپے مختص

عادل آباد میونسپل بجٹ 2026-27 منظور، تقریباً 158 کروڑ روپے مختص

ترقیاتی کاموں، پانی و صفائی پر توجہ، اجلاس میں ہنگامہ اور بدانتظامیوں پر کونسلرس کی سخت تنقید

 

عادل آباد، یکم اپریل(اردو لیکس) مجلس بلدیہ عادل آباد کے جنرل باڈی اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لئے تقریباً 157.56 تا 157.97 کروڑ روپے کے تخمینی سالانہ بجٹ کو منظوری دے دی۔ منگل کے روز میونسپل کونسل ہال میں منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن بنڈاری انوشا نے کی، جبکہ ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

 

بجٹ میں شہر کی مجموعی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور شہری مسائل کے حل پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں بجٹ میں تقریباً 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

 

بجٹ کے اہم نکات کے مطابق شہر کے 49 وارڈس میں ترقیاتی کاموں کے لئے 2.60 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ بلدیہ کے آؤٹ سورسنگ اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں کے لئے 13.70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لئے 4.07 کروڑ روپے اور اسٹریٹ لائٹس و واٹر ورکس کے بجلی بلوں کی ادائیگی کے لئے 5.06 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

 

اجلاس کے دوران کونسلرس نے بلدیہ کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کئی مسائل کو اجاگر کیا۔ کونسلر کلالہ سرینواس نے صفائی کے عملہ کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں ملازمین عہدیداروں کی رہائش گاہوں اور دفاتر میں مصروف ہیں، جس کے باعث وارڈس میں صفائی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے صفائی گاڑیوں کے ڈیزل اخراجات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

 

کونسلر سنجے نے میونسپل جائیدادوں کی لیز میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے شیواجی جنکشن کی زمین کا معاملہ اٹھایا اور سوال کیا کہ لیز کی مدت ختم ہونے کے باوجود اس پر دوبارہ قبضہ کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جائیداد سے بلدیہ کو کوئی آمدنی حاصل نہیں ہو رہی۔

 

کونسلر جوگو شیلجا نے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے مربوط نظام نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور دیگر سرکاری محکموں کے عہدیداروں کی جنرل باڈی اجلاسوں میں شرکت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کونسلر اناپورنا نے مشن بھگیرتھا اسکیم کے تحت پانی کی غیر منظم فراہمی پر ناراضگی ظاہر کی، جبکہ کونسلر نریش نے غیر مجاز تعمیرات پر ٹاؤن پلاننگ عہدیداروں کی خاموشی پر تنقید کی۔

 

اجلاس کے دوران بعض مسائل پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کونسلرس کے درمیان گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر پانی کی قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات پر ہنگامہ آرائی ہوئی، جس پر میونسپل کمشنر نے فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے بلدیہ کو اپنی آمدنی کے ذرائع میں اضافہ کرنے اور ٹیکس وصولی میں شفافیت لانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے صفائی، اسٹریٹ لائٹس اور پینے کے پانی جیسے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا۔ کلکٹر نے بتایا کہ امروت اسکیم کے تحت جاری پانی اور نکاسی آب کے منصوبوں کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔

 

چیئرپرسن بنڈاری انوشا نے کہا کہ مشن بھگیرتھا کے تحت پانی کی عدم دستیابی کے پیش نظر متبادل انتظامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منظور شدہ بجٹ سے شہر کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔

 

اجلاس میں وائس چیئرمین محمد روہت، کمشنر جی راجو، ایگزیکٹیو انجینئر ارون، مختلف سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس، بی جے پی، بی آر ایس، ایم آئی ایم کے کونسلرس اور دیگر عہدیداران شریک تھے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *