روس کا مذاکرات پر سخت مؤقف، امریکہ سے ضمانت کا مطالبہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کی جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رسائی کا مطالبہ کرنے سے قبل یہ ضمانت دینی چاہیے کہ وہ ایران کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔

میخائل اولیانوف نے کہا کہ ایران کے بارے میں امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی مجوزہ قرارداد سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض مغربی ممالک کی موجودہ پالیسیوں نے ایران کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس تناظر میں نئی قراردادیں مسئلے کے حل کے بجائے مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں۔

بین الاقوامی تنظیموں میں روسی نمائندے نے آج روسی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے یوکرین کی جانب سے زاپروژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا۔

میخائل اولیانوف نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں لکھا تھا کہ ایران سے فوری طور پر جوہری معائنوں کی بحالی کا مطالبہ، خصوصاً امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی جانب سے، مکمل طور پر نامناسب ہے کیونکہ موجودہ صورتحال انہی ممالک کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران مخالف نئی قرارداد پیش کرنے کی کوشش پر شکوک و شبہات بالکل فطری ہیں۔

روسی سفارت کار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے جون 2025 اور پھر فروری تا مارچ 2026 کے دوران ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملے کیے جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی ان مراکز میں باقاعدگی سے نگرانی اور تصدیقی سرگرمیاں انجام دے رہی تھی اور اسے کبھی بھی جوہری مواد کے کسی غیر اعلانیہ استعمال یا انحراف کے شواہد نہیں ملے۔

اولیانوف کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے عدم پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو محض ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، جبکہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ شریک رہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *