
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کے اٹھائیسویں دن سپاہ پاسداران انقلاب، ایرانی آرمی اور حزب اللہ کے مسلسل حملوں کی وجہ سے مقبوضہ فلسطین اور خلیج فارس کے ممالک میں صہیونیوں اور امریکیوں پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے۔
آبنائے ہرمز بدستور ایران کے عملی کنٹرول میں ہے اور مغربی ممالک کے جہازوں کی آمد و رفت عملاً معطل ہوچکی ہے۔
میدان جنگ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے بار بار دعوؤں کے باوجود ایرانی حملہ آور نظام بدستور پوری قوت کے ساتھ فعال ہیں۔
اسی دوران جب ٹرمپ کے بعض فوجی مشیر زمینی افواج بھیجنے کے امکان پر بات کر رہے ہیں کا پر ایران کی جانب سے غیر معمولی اور وارننگ دی گئی ہے۔
ایرانی حکام کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے زمینی جنگ آخری سرخ لکیر اور ایک اسٹریٹجک غلطی ثابت ہوگی۔ سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ایران کی وسیع جغرافیائی حدود، جدید دفاعی سازوسامان اور عوامی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے ایران کی سرزمین حملہ آور فوج کے لیے جہنم بن جائے گی اور اس کے نتائج واشنگٹن کے لیے ویتنام جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی متعدد معروف فوجی اور سیاسی شخصیات نے اس منظرنامے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی مطالعاتی مراکز کے سینئر عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ زمینی جنگ اس کے اسٹریٹجک گہرائی، متنوع جغرافیہ اور غیر متوازن جنگ کی تیاری کی وجہ سے ایک ایسے دلدل میں تبدیل ہوسکتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا اور جس میں خوش بین ترین اندازوں کے مطابق بھی ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
مبصرین کے مطابق وقت اس وقت امریکہ کے حق میں نہیں چل رہا اور اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی دباؤ نے وائٹ ہاؤس کو ایسی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے جہاں تیز رفتار فوجی کامیابی کا کوئی واضح امکان موجود نہیں۔ داخلی اور بین الاقوامی سطح پر زمینی جنگ کے ممکنہ تباہ کن نتائج کے بارے میں بڑھتی ہوئی وارننگز نے بھی ٹرمپ کے اختیارات کو مزید محدود کردیا ہے۔
