نئی دہلی: ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان خلیجی ممالک خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ہوٹل مالکان کو سخت انتباہ دیا ہے کہ اگر وہ امریکی فوجی اہلکاروں کو رہائش فراہم کریں گے تو ایسی عمارتوں کو ممکنہ فوجی ہدف سمجھا جا سکتا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق حالیہ حملوں اور اس کے اتحادی گروہوں کی کارروائیوں کے بعد امریکی فوجی اہلکار خطے کے مختلف ہوٹلوں اور شہری عمارتوں میں عارضی قیام کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اہلکار محفوظ جگہوں کی تلاش میں شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں
جس پر ایران نے سخت اعتراض کیا ہے۔ادھر خبر ایجنسی شنہوا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی یہ وارننگ صرف چند مخصوص ہوٹلوں تک محدود نہیں بلکہ ہر اس مقام پر لاگو ہوتی ہے جہاں غیر ملکی فوجیوں کو رہائش یا سہولیات دی جا رہی ہوں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے فوری اور سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوجی اہلکار مختلف شہری مقامات پر موجود ہیں، جن میں بیروت کے پرانے ہوائی اڈے کے قریب ایک لاجسٹک مرکز، دمشق کے ریپبلک پیلس اور چند بڑے ہوٹل شامل ہیں۔
ایران کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی آبادی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بھی اسی نوعیت کا بیان دے چکے ہیں، جس میں انہوں نے خلیجی ممالک کے ہوٹل مالکان سے اپیل کی تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کو ٹھہرانے سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی اہلکار اپنے فوجی اڈوں کو چھوڑ کر شہری علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی امریکی فوجیوں کی یہ حکمت عملی جاری ہے، جو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح امریکہ میں خطرناک افراد کو ہوٹلوں میں قیام کی اجازت نہیں دی جاتی، اسی طرح خلیجی ممالک کو بھی احتیاط برتنی چاہیے۔واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایران کا یہ تازہ انتباہ خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
