
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ‑اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے ستائیسویں دن ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اور آرمی نے دشمن کے خلاف حملوں کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے۔ مقبوضہ فلسطین اور خلیج فارس میں واقع صہیونی اور امریکی تنصیبات اور اڈوں پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے مزید حملے کئے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وعدہ صادق 4 کے تحت سپاہ پاسداران انقلاب نے خودکش ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے کامیاب حملے کئے۔ ٹرمپ کے دعووں کے برعکس ایرانی میزائل اور ڈرون نظام اب بھی فعال ہیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میدانی تجزیوں کے مطابق اس جنگ کا مرکز بتدریج ایران کی سرزمین سے ہٹ کر آبنائے ہرمز کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اہم سمندری راستے میں ایران کو جغرافیائی برتری حاصل ہے، جو اس تنازعے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوسری جانب اس کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض ایشیائی ممالک کے تیل بردار جہاز خصوصی انتظامات کے تحت اپنی آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ مغربی ممالک کے جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے۔
سیاسی سطح پر امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض امریکی مبصرین اور سیاسی شخصیات نے اس جنگ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ امریکہ کے لیے معاشی اور سیاسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے سفارتی ذرائع کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک چھ نکاتی فریم ورک پیش کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف جنگ بندی نہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو نئی شکل دینا ہے۔
مجموعی طور پر جنگ کے ستائیسویں دن کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معاشی دباؤ، توانائی کی منڈی اور عالمی سیاست بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
