جنگ کا تئیسویں دن: دردناک ضربات کا مرحلہ شروع، صہیونیوں کی چیخ و پکار

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور ایک جانب امریکا و اسرائیلی حکومت کے درمیان جاری جنگ اپنے تئیسویں دن میں داخل ہوگئی ہے، اور فوجی مبصرین کے مطابق اس مرحلے میں لڑائی زیادہ پیچیدہ اور مخالف فریق کے لیے زیادہ مہنگی ثابت ہورہی ہے۔

گزشتہ رات سپاہ پاسداران انقلاب نے بوشہر کے ایٹمی پلانٹ پر صہیونی حکومت کے حملے کے جواب میں اسرائیل کے ایٹمی شہر ڈیمونا پر شدید میزائل حملے کیے جس کے بعد 200 ہلاک اور زخمی ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی تین ہفتے طاقت کے جائزے، دفاعی نظاموں کی جانچ اور دشمن کی کمزوریوں کی نشاندہی کے لیے اہم رہے، تاہم اب ان معلومات کی بنیاد پر نئے عملیاتی اقدامات شروع کیے جارہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے انٹیلی جنس اور آپریشنل کمانڈرز دشمن کی نقل و حرکت کے مسلسل جائزے کے بعد نئی جارحانہ حکمت عملیوں اور جدید نظاموں کے استعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ ابتدائی مرحلے سے نکل کر موثر کارروائیوں اور اہم اہداف پر مرکوز حملوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔  

وعدہ صادق 4 آپریشن میں مقبوضہ علاقوں کے اندر حساس فوجی و سکیورٹی مراکز اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق دشمن کے دفاعی نظام کی بعض تہیں متاثر یا ناکارہ ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب مقبوضہ علاقوں میں جانی نقصانات میں اضافے، میڈیا پر پابندیوں اور اندرونی دباؤ کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی اور نفسیاتی سطح تک بھی پھیل رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *