مہر خبررساں ایجنسی–مرضیہ جوانمردیفر: ایسے دور میں جب مسلط کردہ جنگ اور علاقائی و بین الاقوامی حالات کی پیچیدگیاں پہلے سے زیادہ اقوام پر بوجھ ڈال رہی ہیں، کسی بھی ملک کی بقا، طاقت اور استحکام کی ضمانت صرف جنگی ساز و سامان نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور وہ اتحاد ہے جو قومی سلامتی کو تشکیل دیتا ہے۔
ایران کی تاریخی تجربات واضح طور پر یہ دکھاتے ہیں کہ جب بھی قوم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے، سخت ترین بحرانوں کو بھی پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
ایسے حالات میں عوام کا کردار صرف ایک ساتھ دینے والے عنصر سے بڑھ کر ملک کی استقامت کے بنیادی ستون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ باشعور شرکت، اجتماعی ذمہ داری کا احساس اور بروقت میدان میں موجودگی وہ عناصر ہیں جو قومی قوت برداشت کو مضبوط بناتے ہیں اور دشمن کے حساب کتاب کو غلط ثابت کرتے ہیں۔
سماجی اتحاد اس وقت عروج پر پہنچتا ہے جب معاشرے کے تمام طبقات، اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات اور ملکی سلامتی کے دفاع کے محور پر یک زبان ہو جائیں۔
سخت اور کشیدہ جنگی حالات میں یہ حقیقت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے؛ ایسے لوگ جو پوری قوت کے ساتھ وطن کی سرزمین کے دفاع، علاقائی سالمیت کے تحفظ اور محافظین وطن کی حمایت کے لیے میدان میں آتے ہیں۔
یہ موجودگی محض ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ قومی بلوغت اور سلامتی و آزادی کے تحفظ کی ضرورت کی گہری سمجھ کا اظہار ہے۔
ایرانی قوم نے تاریخ کے مختلف ادوار میں بارہا اس حقیقت کو ثابت کیا ہے؛ مشکل دنوں سے لے کر فیصلہ کن لمحات تک، ہمیشہ یہی عوام رہے ہیں جنہوں نے استقامت، ہم آہنگی اور قومی غیرت کے ذریعے حالات کا رخ بدلا اور دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا۔

آج بھی اسی اتحاد اور ہمبستگی کے سائے میں قومی سلامتی مضبوط ہو رہی ہے اور مستقبل کا راستہ زیادہ اعتماد کے ساتھ طے کیا جا رہا ہے۔
آج ایران کی سرزمین کے اصل ہیرو، عوام ہیں
مرضیہ محمدی ایک گھریلو خاتون ہے، جو رات کے وقت اپنے کمسن بچے کے ساتھ عوامی اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، مہر کے نمائندے سے گفتگو میں انہوں نے اتحاد کی ضرورت پر کہا: حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے دنوں میں ہم میں سے بہت سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن ہمیں مضبوط رہنا ہوگا اور دشمن کو موقع نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب ایرانی ایک کشتی کے مسافر ہیں جو آج طوفانی سمندر میں ثابت قدمی سے کھڑی ہے تاکہ کل صاف آسمان اور پرسکون سمندر دیکھ سکیں۔ غم کو دل میں جگہ دینے کے بجائے ہم ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں اور امید بانٹتے ہیں۔ باہمی ہمدردی اور مسکراہٹ کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان مشکل دنوں میں تنہا نہیں ہیں۔
ایرانی پرچم اٹھائے 43سالہ سید محمد حسینی نے کہا: آج ایران کے اصل ہیرو عوام ہیں۔ ہمیں انہی حقیقی ہیروز کے بارے میں بات کرنی چاہیے؛ صرف تاریخی نہیں بلکہ آج کے ہیرو—ڈرائیور، ڈاکٹر، اساتذہ، مزدور اور گھریلو خواتین جو ان دنوں دل و جان سے میدان میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعات دراصل ایک بڑی تحریک کا حصہ ہیں اور عالمی استکبار کے خلاف ایران کی کامیابی کی طرف ایک قدم ہیں۔ ہم فتح کی امید کے ساتھ اس راستے پر چل رہے ہیں اور خدا کے وعدے پر ایمان رکھتے ہیں۔
28 سالہ جواد محبی نے بھی کہا کہ یہ اجتماعات اور مضبوط جذبہ جو ہر رات لوگوں کو سڑکوں پر لے آتا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ مشکل اور جنگی حالات میں ایرانی عوام مختلف طریقوں سے اپنی یکجہتی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کامیابی کے لیے قدم بڑھا رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ میں اتحاد، عوامی حکمرانی کا مظہر ہے
علی رضا بیاباننورد سروستانی شیراز یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عوامی بنیادوں پر قائم نظام ہے اور عوام کی طاقت اس کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عوامی حکمرانی کا تصور، جو دیگر سیاسی نظاموں سے مختلف ہے، امام خمینیؒ اور شہید رہبر انقلاب کی فکر اور سیرت میں گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا تصور ان رہنماؤں کے بیانات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور تمام شعبوں میں عوام کے کردار کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ۴۵ سالوں میں مختلف انتخابات کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام عوامی بنیادوں پر قائم ہے۔

اسلامی انقلاب، ایک عوامی انقلاب کی عملی شکل ہے
انہوں نے کہا کہ میدان جنگ کے محافظین سے لے کر سماجی میدان میں عوامی حامیوں تک، سب لوگ ملک کی طاقت اور استحکام میں عوام کے کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسلامی انقلاب بھی دراصل ایک عوامی انقلاب تھا جو عوام کی بھرپور شرکت سے کامیاب ہوا اور رہنماؤں نے اسے درست سمت دی۔
انہوں نے عوام کی بصیرت اور شعور کو ایک اہم عنصر قرار دیا اور کہا کہ ایرانی قوم بہادر اور باخبر ہے، جو دشمنوں کو بھی حیران کر دیتی ہے۔
عوام کی موجودگی ایران کی طاقت کی ضمانت ہے
انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت یہی عوام ہیں جو ملک کو آگے بڑھاتے ہیں اور اس کی طاقت کی ضمانت ہیں۔ جب تک عوام کا یہ کردار برقرار ہے، نظام بھی مضبوط رہے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد اور ہم آہنگی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اور اختلافات کو ایک طرف رکھنا ضروری ہے تاکہ موجودہ حساس حالات میں نظام کی طاقت برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سماجی اتحاد عوام کو مختلف شعبوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور قیادت و حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اپنی پشت پناہی فراہم کرے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک مضبوط نظریہ پر قائم ہے، اور ایسے نظریے سے مقابلہ کرنا جو اتحاد، توحید اور دینی فکر پر مبنی ہو، انتہائی مشکل ہے۔
