
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی سائیکو تھراپسٹ اور میڈیا ایکٹیوسٹ حسین محمدی نے ایک تحلیلی نوٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ان سے وابستہ میڈیا، بالخصوص Iran International کے حالیہ رویّوں کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے اس چینل کو نہ دیکھنے کا مشورہ دیتے تھے، تاہم اب وہ ان افراد کو جو علاقائی حالات کا درست ادراک رکھتے ہیں، تجویز دیتے ہیں کہ اس چینل کو طنزیہ زاویے سے دیکھا کریں۔
محمدی اپنے نوٹ کے آغاز میں “Madman Theory” یعنی “دیوانہ آدمی کی حکمتِ عملی” کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ٹرمپ اس نظریے کے ذریعے خود کو غیر متوقع ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے مطابق کہ ٹرمپ جتنا اپنے اہداف سے دور ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی زیادہ دیوانہ دکھائی دیتا ہے! اس کے میڈیا ادارے، جن میں ایران انٹرنشنل بھی شامل ہے، اسی رفتار سے زیادہ غیر معقول ہو رہے ہیں… اسی لیے اس چینل کو ایک مزاحیہ نیٹ ورک کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امریکی حکام کے بیانات میں واضح تضادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ روزانہ کئی جھوٹ بولتا ہے، اور یہ چینل روزانہ درجنوں اینکرز اور ماہرین کے ذریعے انہی جھوٹوں کی تشریح کرتا ہے!! کیا یہ واقعی مضحکہ خیز نہیں؟!
اس نوٹ کا ایک اہم حصہ میڈیا بیانیے پر تنقید پر مشتمل ہے۔ محمدی لکھتے ہیں کہ اس چینل نے فوجی حملے کو ایرانی عوام کی مدد کے عنوان سے شروع کیا، مگر جب یہ واضح ہو گیا کہ عوام کی کوئی مدد نہیں ہو رہی، تو اسے شاندار غصہ کا نام دیا گیا، اور پھر آہستہ آہستہ، ٹرمپ کی پسپائی کے ساتھ، اسے شاندار فتح یا شاندار معاہدہ میں تبدیل کر دیا جائے گا!
انہوں نے مزید تنقیدی انداز میں کہا کہ اس چینل کے اینکرز اور مبصرین بھی جتنا زیادہ اس طنز، وہم اور خواب فروشی میں کردار ادا کریں، اتنا ہی زیادہ انہیں معاوضہ ملتا ہے!
محمدی نے اپنے تجزیے کے ایک اور حصے میں ٹرمپ کے متضاد رویّوں کو یا تو ایک خاص “شخصیتی کیفیت” یا “حریف کو الجھانے کی کوشش” قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں: یہ دیوانہ آدمی گویا ایک کمرے میں بیٹھا خود سے باتیں کر رہا ہے! خود ہی ایران کو نقشے سے مٹا دیتا ہے! خود ہی دھمکیاں دیتا ہے، خود ہی ڈیڈ لائن مقرر کرتا ہے! خود ہی مذاکرات کرتا ہے اور خود ہی کامیاب نتائج کا اعلان کرتا ہے! اور پھر خود ہی اپنی ڈیڈ لائن بڑھا دیتا ہے!
انہوں نے مزید کہا کہ ایک لمحے میں کہتا ہے ایران کی بحری اور فضائی طاقت ختم ہو چکی ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں—اور میں نہیں چاہتا! اگلے لمحے کہتا ہے آپریشن ختم ہونے والا ہے اور آبنائے ہرمز اس سے متعلق نہیں… پھر جب دیگر ممالک کی حمایت نہیں ملتی تو دھمکی دیتا ہے کہ ۴۸ گھنٹوں میں حملہ کرے گا؛ پھر اسے ۵ دن تک مؤخر کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں اور معاہدہ قریب ہے، جبکہ اسی وقت مزید فوج بھی بھیج رہا ہوتا ہے!!
محمدی نے اپنے نوٹ کے اختتام پر زور دیا کہ ایسے متضاد بیانات کو بغیر تجزیے کے قبول کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہمارے لیے یہ طریقے واضح ہیں کہ یا تو حریف کو الجھانے کے لیے ہیں یا کسی شخصیتی کیفیت کا نتیجہ ہیں؛ لیکن جو لوگ ان باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، وہ اپنی روزمرہ زندگی کے سادہ ترین معاملات میں بھی فہم کھو بیٹھتے ہیں۔
