ایران اور ملائیشیا کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری اوتاما حاجی محمد بن حسن کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں خطے کی تازہ صورتحال، خصوصاً امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اقتصادی اثرات پر بات چیت کی گئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اگر امریکا اور اسرائیل ان ممالک کی سرزمین یا سہولیات کو ایران کے خلاف استعمال کرتے ہیں تو ایران کو اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ خطے کے ممالک کی قانونی، اخلاقی اور اسلامی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی اسلامی ہمسایہ ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ ہے، جبکہ ایران بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز امریکا، اسرائیل یا ان کے حامی عناصر سے وابستہ جہازوں کے لیے بند ہے، تاہم دیگر ممالک کے جہاز ایران سے رابطہ اور ضوابط کی پابندی کے ساتھ محفوظ گزر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ایران کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور خطے میں پائیدار امن کی اہمیت پر زور دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *