
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے سابق چیف ریٹائرڈ جنرل محسن رضائی نے ایرانی ٹی وی چینل 3 کے خصوصی پروگرام میں حالیہ جنگ کی تازہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان دوستی پر مبنی ایران کا صبر، ختم چکا ہے اور اب جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو جاتی۔
رضائی نے صدام کے دور میں رہائشی علاقوں پر بمباری کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران نے امام خمینی (رح) کی اجازت سے جوابی کارروائی کی تھی۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر وہ شہری علاقوں پر حملے بند نہ کریں تو ایران بھرپور جوابی وار کرے گا۔
جنرل رضائی نے جنگ کے تین مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں دشمن کا منصوبہ تین دن کے اندر نظام کو گرانے کا تھا، جو مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ دوسرے مرحلے میں دشمن حیرت اور مایوسی میں مبتلا رہا، اور اُس کی کارروائیاں بے ربط و غیر مؤثر تھیں۔
انہوں نے تیسرے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دسویں دن کے بعد، ایرانی قیادت کی جانب سے نئے فیصلے اور شدید حملوں نے امریکہ و اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت وہ ہر قیمت پر جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رضائی کے مطابق دشمن نے خلیج فارس اور بحیره عمان میں طاقت کے مظاہرے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر اب وہ ایران کی ساحلی حدود سے ایک ہزار کلومیٹر پیچھے ہٹ چکے ہیں، جو ان کی شکست کی پہلی نشانی ہے۔ خود ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کے خطے سے انخلا کو تسلیم کیا اور بقیہ فوجیوں کو شہری عمارتوں اور ہوٹلوں میں پناہ دلوائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کی بیداری نے دشمن کی داخلی انتشار کی سازش کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔
محسن رضائی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل ختم نہیں ہوں گے، جبکہ آپ کی تھاڈ (THAAD) نظام کی حالت یہ ہے کہ آپ کو اسے جنوبی کوریا سے منگوانا پڑ رہا ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ دشمن نہ ایرانی عوام کے جذبے کو سمجھ پایا ہے نہ ایرانی طرز جنگ کو، اور وہ ابھی تک ایران کی ۸ سالہ دفاعی جنگ کی کامیابیوں کا درست تجزیہ نہیں کر سکا۔
ان کے مطابق، دشمن کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سمجھدار جرنیلوں کو کنارے کر دیا ہے — یہ وہی غلطی ہے جو صدام نے کی تھی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات مضحکہ خیز ہیں، اور دنیا بھر کے عسکری ماہرین جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل گرفت ہے۔
جنرل رضائی نے کہا کہ ایران کے میزائل ذخائر کے بارے میں دشمن کے تخمینے بالکل غلط ہیں۔ ایران کسی طویل جنگ کے لیے تیار ہے جب کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس کے لیے بالکل آمادہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی روزانہ کی بنیاد پر عسکری جدت جاری ہے، خواہ وہ میزائل ہوں یا خودکش ڈرونز۔ میدان جنگ میں مسلسل بہتری لائی جا رہی ہے۔
محسن رضائی نے ایک پرانے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دشمن نے حملے کی دھمکی دی تھی تو ہم نے اس وقت کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ ہٹلر کی طرح انجام کو پہنچیں گے، اور آج وہ ایران کے محاصرے میں ہیں اور فرار کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
انہوں نے میناب میں بچیوں کے اسکول پر امریکی حملے کو اجتماعی قتل قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام خود امریکی ماہرین کے مطابق واشنگٹن کی کارروائی تھی، اس لیے اب پیچھے ہٹنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
آخر میں جنرل رضائی نے ایران کے تمام عسکری دستوں (سپاہ، فوج، بسیج، اور پلیس) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں چھوٹے بھائی کے طور پر ان تمام جوانوں کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا ہوں جو ملت ایران کے دفاع میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
