مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عسکری تجزیہ کار اور سابق امریکی انٹیلیجنس آفیسر اسکاٹ ریٹر نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے کے نتائیج، توقعات کے برعکس نکلا۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کے رہبر کو شہید کرنا اور لوگوں کو سڑکوں پر لانا تھا، اور آج ایران میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہیں، لیکن امریکہ کی حمایت میں نہیں، بلکہ اپنے رہبر کے وہ روڈوں پر ہیں۔ ایران میں اسلامی نظام کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
ریٹر نے مزید کہا: ایران پر حملوں کی شدت کے ساتھ ساتھ یہ حمایت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران کی فوج کا جواب امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیر متوقع تھا۔ ایرانی اس جنگ کے لیے ۲۰ سال سے زیادہ عرصے سے تیاری کر رہے تھے، جب ڈک چنی نے دھمکی دی تھی۔ یہ تیاری اب مکمل ہو چکی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اسرائیل کو اس طرح سزائیں دیتے ہیں جو صہیونیوں کے لیے ناقابل تصور ہے۔
