آپریشن وعدہ صادق4 میں امریکہ اور صہیونی فوج کے نقصانات کی تفصیلات سامنے آنے لگیں

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف آپریشن وعدہ صادق4 کے تحت تیسرے روز بھی کاروائیاں جاری ہیں۔ 

دشمن کے جانی نقصانات کی ابتدائی معلومات سرکاری طور پر سامنے آئی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے سرکاری اعترافات کے مطابق 12 سے 15 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں تاہم غیر سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ اصل نقصانات اس سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

امریکہ کے جانی نقصانات

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا ہے کہ خلیج فارس میں کویت کے قریب امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے مرکز پر ایرانی میزائل حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 5 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن کے بعد امریکی فوج کا پہلا انسانی جانی نقصان ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ مزید ہلاکتیں سامنے آسکتی ہیں اور کہا ہے کہ یہ جنگ کا حصہ ہے۔

کویت میں واقع السالم فوجی اڈے پر شدید بمباری ہوئی جس سے یہ اڈہ تقریبا غیر فعال ہوگیا ہے۔ اس اڈے پر بڑی تعداد میں امریکی فوجی موجود تھے۔

بحرین میں واقع فوجی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ہلاک ہونے والوں کی حتمی تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔

امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کئی خفیہ اور اہم مراکز پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

امارات میں سی آئی اے کے 6 اعلی افسران کی ہلاکت کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایرانی میزائل حملوں کے مقامات پر مزید لاشوں اور زخمیوں کی تلاش جاری ہے۔

ان تمام شواہد اور ٹرمپ کے بیانات سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ حقیقی جانی نقصانات سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

امریکی نقصانات کے بارے میں سپاہ پاسداران کا بیان

دشمن کے جانی نقصانات کے حوالے سے

سپاہ پاسداران کے بیان کے مطابق، ایران کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 560 امریکی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے میں موجود 14 امریکی فوجی اڈوں، چند جنگی بحری جہازوں اور بحری تنصیبات پر خودکش ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

کویتی وزارت دفاع کا بیان

اسی طرح کویت کی وزارت دفاع نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے امریکی فوج کے چند جنگی طیاروں کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے اور کچھ پائلٹس کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔ کویت کے فوجی اڈے کے مکمل طور پر غیر فعال ہونے، بحرین کے اڈے کو شدید نقصان پہنچنے، ملبے کے نیچے لاشوں کی تلاش کے جاری رہنے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان اور تمام شواہد اور زمینی معلومات سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ حقیقی جانی نقصانات کے اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ امریکہ اور صہیونی حکام ہلاکتوں اور زخمیوں کے حقیقی اعداد و شمار جاری کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

صہیونی حکومت کے جانی نقصانات

صہیونی حکومت کے سرکاری اور تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق ایرانی حملوں میں کم از کم 9 سے 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 9 افراد براہ راست بیت شمش میں بیلسٹک میزائل کے گرنے کے بعد ہلاک ہوئے، جبکہ 120 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 450 تک بتائی گئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارکن اب بھی بیت شمش میں ملبے کے نیچے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ہارٹز اخبار کے مطابق تل ابیب میں کم از کم 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صہیونی میڈیا مثلا یروشلم پوسٹ اور یدیعوت احارونوت کے مطابق مقبوضہ علاقوں پر شدید بمباری جاری ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تصاویر شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

روسی خبر رساں ادارے ریانووستی کے مطابق تل ابیب میں متعدد عمارتیں ایرانی میزائل حملوں کے بعد تباہ ہوگئی ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے جتنی سرکاری طور پر تسلیم کی جارہی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *