
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جمعرات کے روز شہر جنیوا ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کی میزبانی کرے گا۔ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطی سمیت مختلف خطوں میں سیاسی اور سلامتی کی صورتحال تبدیلی سے گزر رہی ہے اور عالمی طاقتوں کے باہمی تعلقات بھی نئے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ مذاکرات نہ صرف دو ممالک کے تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی توازن پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ پہلے دو ادوار کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہوئے، تاہم سفارت کاری کا عمل تعطل کا شکار نہیں ہوا اور رابطے کا سلسلہ برقرار ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اس پورے عمل میں اپنے مؤقف کو ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا ہے اور سیاسی و قانونی ذرائع سے قومی مفادات کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ اختلافات کا منظم اور باعزت حل تلاش کرنا ہے۔ اسی لیے مذاکرات کو ایک حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو عملی نتائج میں بدلا جاسکے۔
تہران کا اصولی مؤقف اور معقول لچک
اس مرحلے پر تہران کا سرکاری مؤقف واضح اور طے شدہ اصولوں پر مبنی ہے۔ ایران نے زور دیا ہے کہ وقار، دانائی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی منصفانہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہر طرح کی معقول نرمی دکھائی جاسکتی ہے۔ ایرانی قیادت کے نزدیک یہ لچک کمزوری نہیں بلکہ خود اعتمادی اور داخلی استحکام کا اظہار ہے۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ دباؤ اور سخت پابندیوں کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنے مؤقف پر استقامت دکھائی بلکہ سفارتی راستہ بھی بند نہیں کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر فریق مقابل سنجیدہ ہو تو طے شدہ موضوعات کے دائرے میں عملی تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور عائد کردہ پابندیوں کا مؤثر اور قابل تصدیق خاتمہ ممکن ہو۔
ماضی کے تجربات اور عملی ضمانتوں کی ضرورت
سن 2015 کا جوہری معاہدہ اور ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں اس سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی تہران کے لیے ایک اہم تجربہ ثابت ہوا۔ ایران نے امریکی انخلا کے باوجود طویل عرصے تک اپنی ذمہ داریوں پر پابندی سے عمل کیا جس کی تصدیق بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں میں بھی کی گئی۔ تاہم اس پیش رفت کے باوجود پابندیوں کے اثرات برقرار رہے، جس سے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا۔
اسی پس منظر میں ایران اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ٹھوس، قابلعمل اور قابل تصدیق ضمانتیں شامل کی جائیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ محض سیاسی بیانات یا عارضی اقدامات کافی نہیں ہوں گے، بلکہ ایسا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے جو معاہدے کی پائیداری کو یقینی بنائے اور یکطرفہ فیصلوں کے امکانات کو کم سے کم کرے۔
موجودہ دور کو اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ واضح کرسکتا ہے کہ آیا واشنگٹن سابقہ روش سے ہٹ کر ایک مستحکم اور متوازن سمجھوتے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اگر دونوں فریق حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں تو جنیوا میں ہونے والی یہ بات چیت کشیدگی میں کمی اور زیادہ پیش گوئی کے حامل سفارتی ماحول کی بنیاد رکھ سکتی ہے، بصورت دیگر تعطل کا سلسلہ طول بھی پکڑ سکتا ہے۔
جنیوا مذاکرات اور اعتماد سازی کا امتحان
جنیوا میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے مذاکرات اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہیں کہ آیا فریقین ایک منصفانہ اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ طے شدہ موضوعات پر عملی حل پیش کرنے اور بعض معاملات میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور پابندیوں کو مؤثر طور پر ختم کیا جائے۔ تہران مذاکرات کو قومی مفادات کے حصول کا جائز ذریعہ سمجھتا ہے، لیکن کسی بھی نتیجے کا ٹھوس اور دیرپا ہونا ضروری قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب توجہ امریکہ کے رویے پر ہے کہ آیا وہ منصفانہ معاہدے کے لیے سنجیدہ ارادے کے ساتھ آتا ہے یا ماضی کی طرح اضافی مطالبات اور نئے بہانوں کی روش اختیار کرتا ہے۔ اگر واقعی پیش رفت مطلوب ہے تو مذاکرات کو پیچیدہ بنانے والی پالیسیوں سے بچنا ہوگا۔
ممکنہ معاہدہ ایران کی معیشت کو بہتر بنانے اور عوامی زندگی پر مثبت اثر ڈالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی لیے ایران سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی صلاحیتوں کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ مذاکرات صرف سفارتی ملاقات نہیں بلکہ فریقین کی سنجیدگی اور اعتماد بحالی کی صلاحیت کا امتحان ہیں، اور آئندہ تعلقات کا رخ اسی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
