
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آذربائیجان اور ایران کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور انسانی شعبوں میں تعاون سے متعلق ریاستی کمیشن کا 17واں اجلاس باکو میں منعقد ہوا۔
آذری میڈیا کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت آذربائیجان کے نائب وزیر اعظم شاہین مصطفیٰ اف اور ایران کی وزیر برائے سڑک و شہری ترقی فرزانہ صادق نے کی۔ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے مجاز نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ آذربائیجان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کے ساتھ ساتھ دوستی اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ دوطرفہ تعلقات کی متحرک ترقی دونوں ممالک کی قیادت کے سیاسی عزم پر قائم ہے اور تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔
اجلاس کے دوران تجارت و معیشت، ٹرانسپورٹ، توانائی، آبی وسائل، انسانی امور اور دیگر شعبوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
نائب وزیر اعظم شاہین مصطفیٰ اف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آغبند–کلالہ سڑک پل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور سرحدی و کسٹم ڈھانچے کی تکمیل کے بعد اسے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ مشرقی زنگزور اقتصادی خطے کو آزاد جمہوری نخجوان سے مختصر اور مؤثر ترین راستے کے ذریعے جوڑے گا، جبکہ یہ خلیج فارس کو بحیرہ اسود سے ملانے والی ٹرانسپورٹ راہداری کا بھی اہم حصہ ہوگا۔
مشرق–مغرب اور شمال–جنوب ٹرانسپورٹ راہداریوں کی ترقی، خطے کی لاجسٹک صلاحیت اور ٹرانزٹ امکانات میں توسیع، نیز راشت–آستارا ریلوے لائن کی تعمیر — جسے شمال–جنوب راہداری کا کلیدی جزو قرار دیا جاتا ہے — پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس ریلوے لائن کی تکمیل سے شمال–جنوب سمت میں مال برداری کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ترسیل کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔
فریقین نے لاجسٹک اور ٹرانزٹ صلاحیت کو بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں استحکام یقینی بنانے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں مشترکہ صدور نے کمیشن کے اجلاس کے نتائج سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
