
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں برکینا فاسو کے وزیر دفاع سے ملاقات کے دوران عزیز نصیرزادہ نے کہا کہ افریقہ، خاص طور پر آزاد ریاستیں، ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
انہوں نے مغربی افریقہ کے ممالک، بالخصوص برکینا فاسو کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور ایران کے خلاف اقدامات کی مذمت کرنے پر برکینا فاسو کے مؤقف کو سراہا۔
ملاقات کے دوران برکینا فاسو کے وزیر مملکت برائے جنگ و دفاع، سیلسٹین سیمپورے سے گفتگو کرتے ہوئے نصیرزادہ نے ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات کی مذمت اور مختلف مواقع پر یکجہتی اور تعزیتی پیغامات بھیجنے پر برکینا فاسو کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ تہران کی اصولی پالیسی مغربی افریقہ کی خودمختار اور انقلابی ریاستوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے، جس میں برکینا فاسو کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے ساحلی خطے میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں، جن میں برکینا فاسو، نائیجر اور مالی شامل ہیں، کو نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا۔ انہوں نے ان ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو بیرونی دباؤ کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
نصیرزادہ نے مغربی طاقتوں کی جانب سے خودمختاری اور قومی آزادی کو کمزور کرنے کی کوششوں کا سامنا کرنے والی آزاد ریاستوں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
دوسری جانب جنرل سیمپورے نے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور 12 روزہ جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایران کی شناخت اور آزادی کے دفاع میں مزاحمت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں مکمل امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب غلبے پر مبنی تعلقات کا خاتمہ کیا جائے اور انصاف و امن کو زیادہ جگہ دی جائے۔
