یوتھ کانگریس کے مطابق یہ احتجاج کسی تقریب کی مخالفت نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے خلاف تھا جنہیں وہ ملک کے مفاد کے منافی قرار دے رہی ہے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ جب قومی مفاد پر کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی جائے اور خارجہ پالیسی میں ایسی نرمی دکھائی دے جو کسانوں اور نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہو، تو احتجاج جمہوری حق ہی نہیں بلکہ ذمہ داری بن جاتا ہے۔
احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لیے مقام پر ہلچل کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا اور انہیں وہاں سے ہٹا دیا۔ حکام کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ تاہم یوتھ کانگریس نے اسے پرامن اور علامتی احتجاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آواز دبانے کی کوششیں نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
