
حیدرآباد کے نامپلی علاقے میں واقع فورنسک سائنس لیبارٹری کے دفتر میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے سنسنی پھیل گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ دفتر کے اندر اچانک شعلے بلند ہوتے ہی عملہ میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی۔
اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کے لئے کارروائی شروع کردی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی،
فورینسک سائنس لیبارٹری میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ میں کئی اہم کیس سے متعلق اہم شواہد رکھنے والی کئی فائلوں کے جل جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جرائم کی تفتیش سے وابستہ فائل ایویڈنس لیبارٹری کی کارروائیاں اسی مقام سے انجام دی جاتی ہیں، تاہم کون سی مخصوص فائلیں متاثر ہوئیں، اس بارے میں ابھی تک واضح معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عمارت کی پہلی منزل پر کمپیوٹرز نصب ہیں جہاں سے ریکارڈ اور شواہد کی نگرانی کی جاتی ہے۔
سنٹرل زون کی ڈی سی پی شلپا ولی کے مطابق واقعہ کے وقت اندر موجود چار ملازمین نے آگ بھڑکتے ہی صورتحال کو بھانپتے ہوئے محفوظ طور پر باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پانچ فائر انجنوں کی مدد سے شعلوں پر مکمل قابو پا لیا گیا۔
۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات جاری ہیں اور تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد ہی مزید حقائق واضح ہوں گے۔
