سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ فوجداری قانون میں ہر ملزم کے کردار کا الگ الگ تعین ضروری ہے۔ محض یہ کہنا کہ کوئی شخص موقع پر موجود تھا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے جرم میں شرکت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اجتماعی الزامات یا غیر واضح بیانات قانون کے سخت اطلاق کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔
یہ اپیل پٹنہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایک ایف آئی آر کے ذریعے آنگن واڑی مرکز میں ذات پات کی بنیاد پر بدسلوکی اور مارپیٹ کا الزام لگایا گیا تھا۔
