صومالی لینڈ کے بعد اب اسرائیل کی نظریں جنوبی یمن پر؛ نئی علاقائی حکمت عملی بے نقاب

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب اب جنوبی یمن میں ایک آزاد ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کے حوالے سے پسِ پردہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ عبرانی چینل کے مطابق، اگرچہ جنوبی یمن میں اماراتی حمایت یافتہ فورسز نے صومالی لینڈ کی شناخت پر تاحال کوئی سرکاری ردِعمل نہیں دیا، لیکن اندرونی حلقوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیل جلد ہی جنوبی یمن کو بھی ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کر لے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی براہِ راست انصار اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے ہے، جو یمن کے شمالی حصے اور بحیرہ احمر کے اہم علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ جنوبی یمن میں اسرائیلی یا اماراتی اثر و رسوخ میں اضافہ خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اماراتی حمایت یافتہ گروہوں نے سعودی عرب کے حامی دھڑوں کے مقابلے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بھی سرد جنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب، انصار اللہ نے دوٹوک وارننگ دی ہے کہ صومالی لینڈ کی سرزمین پر کسی بھی اسرائیلی موجودگی کو عسکری ہدف تصور کیا جائے گا۔ ترکی، مصر اور صومالیہ نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے صومالی لینڈ کے صدر کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد سے افریقہ اور عرب دنیا میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *