مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور یمن کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ یمنی وزیرِ خارجہ نے جنوبی یمن میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یمن اور خطے کے دشمن بدامنی پھیلانے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے صیہونی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں یمنی عوام کے اصولی موقف کی تعریف کی۔ انہوں نے یمن کے تمام سیاسی گروہوں اور دھڑوں پر زور دیا کہ وہ دشمن کی جانب سے یمن کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشوں کو مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے ناکام بنائیں۔
عراقچی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یمنی بحران کا مستقل حل محاصرے کے مکمل خاتمے، روڈ میپ کے دیگر حصوں پر عملدرآمد اور ایک ایسی ہمہ گیر حکومت کی تشکیل میں مضمر ہے جو یمن کی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کی ضامن ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں قیامِ امن کے لیے یمنی گروہوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔
