
مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: حضرت امام علی النقی علیہ السلام امام محمد تقیؑ کے فرزند ہیں۔ آپؑ سنہ 220 سے 254 ہجری یعنی 34 برس تک امامت کے منصب پر فائز رہے۔ دورانِ امامت آپؑ چند عباسی حکمرانوں کے ہم عصر تھے جن میں سے ایک متوکل عباسی تھے۔ دوران امامت کے اکثر ایام آپؑ نے سامرا میں عباسی حکمرانوں کے زیر نگرانی گزارے۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے سامرا میں 20 سال 9 ماہ قیام کیا اور رجب سنہ 254 ہجری میں حاکم وقت کے زہر کے اثر سے شہید ہوگئے۔
اسلامی تاریخ کے ایک پیچیدہ اور پرتناؤ دور میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے نہ صرف عباسی حکمرانوں کی عقلستیزانہ پالیسیوں کا مقابلہ کیا بلکہ اہل بیتؑ کے بارے میں غلو کرنے والے افراد کی انحرافی کوششوں کو بھی بے نقاب کیا۔ اس دوران، شیعیان کی اعتقادی تربیت اور دین کی حقیقی روح کو برقرار رکھنے کے لیے حضرت امام ہادیؑ نے توحید اور عقلانیت کو بنیاد بنایا۔
حجت الاسلام والمسلمین سید محمدباقر علم الهدی کے مطابق، عصر امام ہادیؑ میں اسلامی معاشرہ سیاسی دباؤ اور فکری کشمکش کا شکار تھا۔ مختلف فرقه وارانہ اور افراطی تحریکیں عوامی عقائد پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایسے حالات میں امام ہادیؑ نے علمی اور کلامی سطح پر شیعیان کو درست اعتقاد کی طرف راغب کیا اور انہیں آئندہ غیبت کے دور کے لیے آمادہ کیا۔ یہ اقدامات امام ہادیؑ کی فکری بصیرت اور اعتقادی قیادت کی علامت ہیں، جو آج بھی شیعہ معاشرے میں رہنمائی کا محور سمجھے جاتے ہیں۔
حجت الاسلام سید محمد باقر علم الھدی کی گفتگو کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
امام ہادیؑ نے اپنے دور میں پھیلی ہوئی فکری اور اعتقادی انحرافات، جیسے غلو، صوفی ازم اور واقفیہ کے نظریات، کے خلاف کیا حکمت عملی اپنائی اور ان اقدامات کا شیعیان کی رہنمائی میں کیا کردار تھا؟
حضرت امام ہادیؑ نے ایسے تمام نظریات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جو دین کی اصل روح سے ہٹ کر عوام کے عقائد پر اثر ڈال سکتے تھے۔ ان کا مقصد صرف امامت کے مقام کی حفاظت کرنا نہیں تھا بلکہ شیعیان کو آنے والے غیبت کے دور کے لیے مضبوط اور تیار کرنا بھی تھا۔ اہل بیتؑ کی زندگی ہمیشہ چیلنجز سے بھری رہی، جو یا تو دشمنوں کی طرف سے جان بوجھ کر یا بعض اوقات نادان دوستوں کی طرف سے پیدا ہوتے تھے۔ دشمن اکثر عوام کی نادانی کا فائدہ اٹھاتے اور معاشرے میں فکری انحرافات پھیلانے کی کوشش کرتے تاکہ امام کے مقدس مقام کو مشکوک بنایا جاسکے۔ امام ہادیؑ اسی زمانے میں رہتے تھے جب دین میں بدعات اور نئی رواجیں جو شریعت سے غیر متعلق تھیں، تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ اس لیے آپؑ نے بدعت کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے معاشرے میں پھیلنے سے روکا۔ امام ہادیؑ نے چند عباسی حکمرانوں، جیسے متوکل، منتصر، مستعین اور معتز بالله کے دور میں زندگی گزاری۔ یہ حکمران اہل بیتؑ کے مخالف تھے اور بعض اوقات امام کے مقام کو مشکوک بنانے کے لیے خرافات اور بدعتیں عوام میں پھیلانے کی کوشش کرتے تھے۔ امام ہادیؑ نے علمی اور اعتقادی سطح پر ان تمام کوششوں کا مؤثر مقابلہ کیا تاکہ شیعیان کے ایمان اور عقائد محفوظ رہیں۔
کچھ مثالیں بیان کریں اور بتائیں امام ہادیؑ نے ان کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیا؟
حضرت امام ہادیؑ کے دور میں ایک بدعت جو بہت عام ہوئی، وہ اہل بیتؑ سے محبت کے بہانے غلو آمیز باتیں کرنا تھا۔ بعض لوگ امام ہادیؑ کو “باب اللہ” کے لقب سے پکارنا شروع کرتے، کبھی ان کے نبی ہونے کا دعوی کرتے اور بعض حد تک یہ بھی کہتے کہ امام خدا ہیں۔ جب یہ خبریں امام کے کانوں تک پہنچتی، تو وہ شدید ناراض ہوتے اور ان غالیوں کے خلاف سخت ردعمل دکھاتے، اور ان پر لعنت بھیجتے۔ مثال کے طور پر، ایک شخص علی بن حسن القمی تھا۔ اس نے ابتدا میں امام ہادیؑ کو باب اللہ قرار دیا، پھر نبوت کا دعویٰ کیا اور آخر کار امام کو خدا کہنے کی بات تک پہنچ گیا۔ امام ہادیؑ نے اسے تکفیر کی اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ جہاں کہیں اس شخص کو دیکھیں، اسے روکیں اور غلط باتیں کرنے سے باز رکھیں کیونکہ یہ امام کے بارے میں ناجائز دعوے کر رہا تھا۔
ایک اور مثال فارس قزوینی کی ہے، جو امام کے بارے میں غلو آمیز اور جھوٹے دعوے کرتا رہا۔ امام ہادیؑ نے اسے روکنے کے لیے کسی فرد کو مامور کیا کہ اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔ یہ اس وقت ہوا جب خود امام قید میں تھے اور عباسی حکمرانوں کی سخت نگرانی میں تھے، لیکن اس کے باوجود امام ہادیؑ نے غلو کے مسئلے کے خلاف سخت اور مؤثر اقدامات جاری رکھے۔
حضرت امام ہادیؑ نے صوفیانہ رجحانات اور فکر کے بارے میں کیا حکمت عملی اپنائی؟
حضرت امام ہادیؑ کے دور میں ایک اور فکری انحراف صوفیانہ رجحانات کی صورت میں موجود تھا۔ آپ نے مدینہ میں رہتے ہوئے بھی صوفیہ کے ساتھ سخت موقف اپنایا۔ مثال کے طور پر، ابو ہاشم جعفری، جو صوفیہ کے رہنما اور امام ہادیؑ کے معاصر تھے، مدینہ میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ ذکر اور رقصِ سماع میں مصروف تھے۔ حضرت امام ہادیؑ جب مسجدِ نبوی میں یہ منظر دیکھتے تو مؤمنین سے فرماتے: ان سے فریب نہ کھاؤ، یہ جسمانی شیاطین ہیں جو دین کو چھپانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے آئے ہیں۔ یہ واقعہ امام ہادیؑ کے صوفیہ کے ساتھ واضح اور صریح موقف کی ایک مثال ہے۔
کیا اس دور میں واقفیہ کے رجحانات بھی سرگرم تھے؟
ہاں، حضرت امام ہادیؑ نے واقفیہ کے انحرافی رجحانات کے خلاف بھی مؤثر اقدامات کیے۔ واقفیہ کی ابتدا امام موسی بن جعفرؑ کے دور میں ہوئی تھی۔ اس کا تعلق اموال اور خمس کے مسئلے سے تھا، کیونکہ علی بن ابی حمزہ بطائنی، جو امام موسیؑ کے وکیل تھے، کے پاس عوام کے اموال اور زکات آتی تھی۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے شہید ہونے کے بعد، یہ اموال امام رضاؑ کو پہنچانا چاہئے تھا لیکن علی بن ابی حمزہ نے انہیں اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے افواہیں پھیلائیں کہ امام موسی کاظمؑ زندہ ہیں اور امام رضاؑ کی امامت قائم نہیں ہوئی۔ یہ واقفیہ کا فکری رجحان امام ہادیؑ کے دور تک جاری رہا۔
حضرت امام ہادیؑ نے اس گروہ کے انحرافات کے خلاف سخت موقف اختیار کیا، اور امام رضاؑ، امام جوادؑ اور آخر کار اپنے فرزند حضرت حجتؑ کی امامت کو واضح اور مستحکم کیا۔ ان فکری اور انحرافی مکاتب کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت امام ہادیؑ نے دورانِ غیبت میں شیعیان کی رہنمائی کے لیے وکلاء کا ایک مضبوط اور منظم نیٹ ورک قائم کیا۔ وہ جانتے تھے کہ شیعیان کو مستقبل میں اسی نیٹ ورک کے ذریعے حجت خدا کے حقیقی وکلاء کی مدد سے دین کی صحیح رہنمائی حاصل ہوگی۔ یہ اقدام امام ہادیؑ کی دوراندیشی اور شیعیان کے لیے فکری و اعتقادی استحکام فراہم کرنے کی ایک اہم مثال ہے۔
امام ہادیؑ نے اپنے دور میں پھیلی ہوئی فکری انحرافات جیسے تشبیہ و تجسیم، رؤیت خدا، جبر و تفویض اور قرآن کی تحریف کے دعوے کے خلاف کس طرح روایتی اور تربیتی اقدامات کیے، اور ان کا شیعیان کے اعتقادات کی حفاظت میں کیا کردار رہا؟
حضرت امام ہادیؑ کے زمانے میں کچھ گروہ خدا کو مخلوقات کے مترادف سمجھنے (تشبیہ) یا خدا کے جسم ہونے اور قابل رویت ہونے (تجسیم) کے دعوے کرتے تھے۔ حضرت امام ہادیؑ نے اس فکر اور عقیدے کی سخت مخالفت کی اور فرمایا کہ اللہ تعالی ہر طرح کے عیوب و نقائص سے پاک اور منزہ ہے؛ نہ محدود ہے، نہ قابل تشبیہ، اور نہ ہی مخلوق کی طرح جسم رکھتا ہے اسی طرح، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ خدا آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے، امام ہادیؑ نے اس نظریے کو مکمل رد کیا اور فرمایا کہ اللہ کسی بھی طرح قابل رؤیت نہیں ہے۔ امام عالی مقام نے عقلی اور توحیدی دلائل سے واضح کیا کہ اگر اللہ کو دیکھا جا سکتا ہے تو اس کا مطلب جسمانیت ہوگا، جو ذات واجب الوجود کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
حضرت امام ہادیؑ اپنے پیروکاروں کو ایسے لوگوں کے ساتھ ہمنشینی سے بھی منع کرتے تھے جو عقیدے میں گمراہ تھے۔ مثال کے طور پر، ابو ہاشم جعفری نقل کرتے ہیں کہ ایک بار امام نے فرمایا: تم عبدالرحمن بن یعقوب کے ساتھ کیوں بیٹھتے ہو؟ وہ اللہ کے بارے میں غلط باتیں کرتا ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ یہ واقعہ امام کی شیعیان کی اعتقادی حفاظت کے تئیں حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی دور میں جبر و تفویض کے بارے میں بھی غلط نظریات پھیل رہے تھے۔ جب امام ہادیؑ نے دیکھا کہ لوگ جبر یا تفویض کی طرف مائل ہورہے ہیں، تو انہوں نے اس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ مثال کے طور پر امام نے شہر اہواز کے لوگوں کے نام اپنے پیغام میں لکھا کہ انسان کی مرضی اور اختیار کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور خدا کی ربوبیت کے دائرے میں جبر یا تفویض مطلق کو رد کیا۔ ان اقدامات کے ذریعے امام ہادیؑ نے توحید کو خالص رکھا، شیعیان کے اعتقادات کی حفاظت کی اور معاشرے کو فکری انحرافات سے بچایا۔
کیا امام ہادیؑ کے دور میں قرآن کے بارے میں بھی کوئی انحرافی رجحانات موجود تھے؟
حضرت امام ہادیؑ کے زمانے میں ایک اور فکری انحرافی رجحان قرآن کی تحریف کے دعوے کی شکل میں سامنے آیا، جسے حشویہ نامی گروہ پھیلا رہا تھا۔ یہ اہل سنت کا ایک شدت پسند فرقہ تھا جو عقل اور منطقی استدلال کو بالکل نظرانداز کرتا اور بعض اوقات عقل کے استعمال کو بدعت سمجھتا تھا۔ حشویہ جعلی روایات اکٹھی کرکے یہ دعویٰ کرتے کہ قرآن میں بعض آیات میں صریحا امیرالمؤمنین علیؑ کا نام ذکر ہوا ہے۔ یہ دعوے درست نہیں تھے، لیکن بعض اہل سنت اور بعض غالی شیعیان بھی اس فریب میں مبتلا ہو گئے۔ امام ہادیؑ نے اس نظریے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔ مثال کے طور پر، احمد سیّاری نامی شخص جو خود کو امام کا قریبی مانتا تھا اور غلو آمیز رجحانات رکھتا تھا، امام ہادیؑ نے اسے دوستوں کے حلقے سے خارج کیا اور واضح طور پر فرمایا کہ یہ غالی ہے۔ یہ واقعات امام ہادیؑ کے دور میں موجود انحرافی اور غلط فکری رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امام عالی مقام نے ہمیشہ عقل اور وحی پر مبنی موقف اختیار کرتے ہوئے عوام اور شیعیان کے عقائد کو ان غلط فکری رجحانات سے محفوظ رکھا۔
عباسی حکومت کے عقلگرائی سے نقلگرائی کی طرف رجحان اور علمی مباحث پر پابندی کے باوجود، امام ہادیؑ نے کس طرح دینی عقلانیت کو برقرار رکھا اور شیعوں کو سیاسی خطرات سے محفوظ رکھا؟
حضرت امام ہادیؑ کے دور میں عباسی حکمرانوں نے دو مختلف فکری رجحانات کے ساتھ معاشرتی اور حکومتی نظام کو چلایا۔ ابتدائی طور پر مأمون، ہارون، معتصم اور واثق جیسے خلفا نے عقلگرائی کو فروغ دیا، اور حکومت میں ایسے افراد کو اہم مناصب دیے جو عقل اور استدلال کو ترجیح دیتے تھے۔ اس وجہ سے علمی محافل اور عوامی سوچ میں عقلگرائی غالب تھی۔
حضرت امام ہادیؑ کی امامت 220 ہجری میں شروع ہوئی۔ 232 ہجری تک عقل گرایی جاری رہی اور علمی حلقوں میں عقلانی مباحث کافی بڑھ گئے۔ لیکن 232 ہجری کے بعد متوکل عباسی اقتدار میں آیا اور اس نے مکمل طور پر عقلگرائی کے خلاف رویہ اختیار کیا۔ اس نے نقلگراؤں اور اخباریوں کو اہم حکومتی مناصب میں فائز کیا اور علمی محافل میں مباحث عقلانی پر پابندی لگا دی۔ اس کے ساتھ ہی احمد بن حنبل کی طرف سے حنبلی فکر کا اثر بڑھا، جو بالکل نقلگرا اور اخباری تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں، عقلانی مباحث کمزور ہوگئے اور علمی حلقوں میں نقلگرائی غالب آگئی۔ اگر کوئی شخص عقل و استدلال کے ذریعے کلامی مسائل پر بات کرتا تو اسے سخت سزا یا تنقید کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ محدودیتیں پورے دور امامت امام ہادیؑ میں برقرار رہیں۔
امام ہادیؑ نے اس مشکل ماحول میں فکری حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے دینی عقلانیت اور توحید کو محفوظ رکھا، علمی اور تربیتی سطح پر شیعوں کی رہنمائی کی، اور ان کو سیاسی خطرات اور حکومتی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے محتاط اور منظم نیٹ ورک قائم کیا۔ یہ نیٹ ورک وکلاء اور قریبی شاگردوں پر مشتمل تھا، جس کے ذریعے شیعیان کی عقیدتی تربیت جاری رہی اور دین کی صحیح تعلیم منتقل ہوتی رہی۔
عباسی حکمرانوں کے دباؤ اور پابندیوں کی نوعیت کیا تھی اور امام ہادیؑ نے ان کا کیسے مقابلہ کیا؟
حضرت امام ہادیؑ کے دور میں وہ لوگ جو دینی عقلانیت اور احکام شرعی کو عقل کے مطابق سمجھتے تھے، حکومتی دباؤ کا شکار تھے۔ اس وقت جب علمی محافل میں مباحث عقلانی پر پابندی لگائی گئی تھی، امام ہادیؑ کو مدینہ سے سامرا منتقل کیا گیا۔ حضرت امام ہادیؑ کے شاگرد مختلف سوالات کے ساتھ آپ کے پاس آتے تھے اور ابتدائی دور میں آپ انہیں جواب دیتے تھے، لیکن سامرا کی قید اور حکومتی نگرانی کے باعث یہ سلسلہ مشکل ہوگیا۔ امام ہادیؑ کے سامنے دو چیلنجز تھے: ایک طرف شیعوں کی جان محفوظ رکھنا، اور دوسری طرف علمی اور عقلانی تعلیم کو جاری رکھنا۔ اسی دوران عقلگراؤں اور نقلگراؤں کے درمیان شدید علمی اختلافات تھے، جیسے قرآن قدیم ہے یا حادث، جبر و اختیار، حسن و قبح عقلی و نقلی، اور صفات خداوند متعال۔ عقلگرایان یہ امور حادث اور مخلوق سمجھتے تھے، جبکہ نقلگراء جیسے احمد بن حنبل ان مباحث کو چھیڑنے کی سختی سے مخالفت کرتے تھے۔ خلفائے عباسی نے اس موضوع پر بحث کو مکمل طور پر ممنوع کردیا تھا تاکہ معاشرت میں دوقطبی، علمی کشمکش اور سماجی اختلاف پیدا نہ ہو۔ اس کے باوجود حضرت امام ہادیؑ کے شاگرد کوشش کرتے کہ امام تک پہنچیں اور عقلانی رہنمائی حاصل کریں، لیکن امام سخت نگرانی میں تھے اور آزادانہ جواب دینا مشکل تھا۔ اسی لیے امام ہادیؑ نے شاگردوں اور شیعوں کو محتاط رہنے اور ایسے مباحث میں داخل نہ ہونے کی ہدایت دی، تاکہ انہیں گرفتاری، سزا یا قتل سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ابتدائی دور میں حضرت امام ہادیؑ نے وسیع اور مستدل انداز میں عقلی مباحچ پیش کیے، قرآنی اور عقلی دلائل سے لوگوں کو دین سے روشناس کرایا، لیکن بعد میں جان کی حفاظت اور شیعوں کے تحفظ کے لیے محتاط رویہ اختیار کیا اور عوام کو ایسے مباحث سے دور رکھا۔
