جہیز کی مانگ پر عین وقت میں شادی منسوخ – 50 ہزار روپے کے لئے بارات نہ آئی، دلہن رات بھر انتظار کرتی رہی”

بہار کے ضلع مغربی چمپارن کے بیتیہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 15 جون کو شبنم کی شادی طے تھی، مگر مبینہ طور پر 50 ہزار روپے اضافی جہیز نہ ملنے پر دلہا بارات لے کر دلہن کے گھر نہیں پہنچا۔ دلہن شبنم رات ایک بجے تک بارات کا انتظار کرتی رہی، لیکن اس کے ارمان ادھورے رہ گئے۔

 

لڑکی والوں کا الزام ہے کہ 15 جون کی شام دلہا  نے اچانک 50 ہزار روپے اضافی جہیز کا مطالبہ کیا۔ جب یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو انہوں نے بارات لانے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے میں لڑکی کے گھر والوں نے دلہا اور اس کے رشتہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

 

یہ واقعہ یوگاپٹی تھانہ حدود کے مچھرگاؤں بازار گاؤں کا ہے۔ شبنم کی شادی رودل پور گاؤں کے رہنے والے گلاب انصاری کے بیٹے ارمان کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ شادی کے لیے کئی دنوں سے تیاریاں جاری تھیں۔ گھر کو سجایا گیا تھا، مہمانوں کے استقبال کے انتظامات مکمل تھے اور دعوت کے لیے گوشت بھی تیار کیا جا چکا تھا، جبکہ دلہن بھی مکمل طور پر تیار بیٹھی تھی۔

 

شبنم کے اہل خانہ کے مطابق 15 جون کی شام ارمان کے والد گلاب انصاری نے اچانک 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 200 باراتیوں کو لانے اور ان کے لیے بکرے کے گوشت کا خصوصی انتظام کرنے کی شرط بھی رکھی۔ گلاب انصاری نے یقین دلایا تھا کہ رات 9 بجے تک بارات پہنچ جائے گی۔

 

لڑکی کے رشتہ دار شاہد انصاری نے بتایا کہ رات گئے تک پورا خاندان، رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ بارات کا انتظار کرتے رہے، لیکن کوئی نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی ٹوٹنے سے نہ صرف شبنم بلکہ پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور سماجی پریشانی کا شکار ہوگیا۔

 

انہوں نے کہا کہ جس گھر میں شادی کی خوشیاں منائی جانی تھیں، وہاں اچانک سناٹا چھا گیا۔ جہیز کی اضافی مانگ نے ان کی بیٹی کے تمام خواب چکنا چور کر دیے۔

 

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد یوگاپٹی تھانہ پولیس مچھرگاؤں بازار پہنچی اور تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس نے دونوں فریقوں سے معلومات حاصل کی ہیں۔ متاثرہ خاندان نے جہیز کا مطالبہ کرکے شادی توڑنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور تحقیقات کی رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *