انہوں نے یاد دلایا کہ بولگانین اور خروشچف کا دورہ دو مرحلوں پر مشتمل تھا، پہلا مرحلہ 18 سے 30 نومبر 1955 تک اور دوسرا 7 سے 14 دسمبر 1955 تک۔ اس طویل اور جامع دورے سے چند ماہ قبل وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے سوویت یونین کا دورہ کیا تھا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد مزید مضبوط کی۔
جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں اس دورے کے اثرات تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہی وہ موقع تھا جب ہند–سوویت تعاون کی حقیقی بنیاد پڑی۔ اس کے بعد صنعتی، تکنیکی اور دفاعی شعبوں میں کئی نمایاں منصوبے وجود میں آئے جنہوں نے ہندوستان کے ترقیاتی ڈھانچے کو نئی سمت دی۔ بھلائی اسٹیل پلانٹ اور آئی آئی ٹی بمبئی اس ابتدائی اشتراک کی نمایاں مثالیں تھیں۔ چند برس بعد ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے سوویت ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت مگ طیاروں کی تیاری شروع کی، جو ملک کی دفاعی مضبوطی میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔
