مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے معاون وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریبآبادی نے اقوام متحدہ میں ۱۱۰ سے زائد ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ایک نشست میں کہا کہ ایران پر حملہ ایک کھلی جارحیت ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے ایک تاریخی آزمائش کی حیثیت رکھتا ہے۔
غریبآبادی نے اس نشست میں صہیونی حکومت اور امریکہ کی جانب سے ایران کی سرزمین پر حملے کے مختلف پہلوؤں اور اس کے عالمی امن و سلامتی پر پڑنے والے اثرات کی وضاحت کی اور کہا کہ گذشتہ آٹھ دہائیوں سے صہیونی حکومت خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کا بنیادی سبب رہی ہے، جس نے اب تک تین ہزار سے زائد دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں، سات ملین سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کیا ہے، لاکھوں افراد کو شہید اور ایک ملین سے زائد کو قید کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ تل ابیب نہ کسی تخفیف اسلحہ کے معاہدے کا رکن ہے اور نہ ہی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدوں میں شامل ہے جبکہ وہ سینکڑوں ایٹمی وارہیڈز رکھتا ہے۔
غریبآبادی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر پرامن قرار دیا، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی سخت نگرانی میں جاری ہے، اور کہا کہ اسرائیل گذشتہ تیس برسوں سے ایران پر جھوٹے الزامات لگا کر امریکی عوام اور حکومت کو گمراہ کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ایٹمی بم کا اتنا شور ہے، وہ آخر کہاں ہے؟ کیا یہ مضحکہ خیز نہیں کہ ایک جارح، مجرم اور ایٹمی ہتھیار رکھنے والا غاصب ملک، ایک ایسے ملک پر الزام لگائے جو NPT کا رکن ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر کے ممالک نے ایران پر ہونے والے اسرائیلی-امریکی حملے کی مذمت کی، مگر بدقسمتی سے تین یورپی ممالک، سلامتی کونسل، آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز اور حتی کہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے یا تو خاموشی اختیار کی یا جانبدارانہ مؤقف اپنایا اور اپنے قانونی و اخلاقی فریضے سے غفلت برتی۔
غریبآبادی نے متنبہ کیا کہ ایران دو ایسے ممالک کی جارحیت کا نشانہ بنا ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سلامتی کونسل یا بورڈ آف گورنرز سے مذمتی قرارداد کی منظوری میں رکاوٹ ڈالی۔ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہے، تو پھر عالمی امن و سلامتی کا تحفظ کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟
ایرانی نائب وزیر نے ایران کی پرامن اور محفوظ ایٹمی تنصیبات پر حملے کو ایک بے مثال اور سنگین جرم قرار دیا اور کہا کہ اس حملے کی مذمت نہ کرنا این پی ٹی کے دیگر رکن ممالک کو کیا پیغام دے رہا ہے؟ جو ممالک ایران کی شفاف ایٹمی سرگرمیوں پر شور مچاتے ہیں، وہ اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین سے مسلسل انحراف اور ایٹمی اسلحے کی ترقی پر کیوں خاموش ہیں؟
انہوں نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاموشی ایران جیسے ممالک کے لیے یہ پیغام تو نہیں بن رہی کہ اگر آپ NPT کے رکن نہ ہوں تو نہ صرف مؤاخذہ سے بچ جائیں گے، بلکہ آپ کو استثنا اور امتیاز بھی حاصل ہوگا؟
