الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ آدھار جیسے دستاویزات دیگر دستاویزات کے ساتھ معاون حیثیت میں استعمال ہو سکتے ہیں لیکن انہیں حتمی یا لازمی شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ کمیشن نے زور دیا کہ دستاویزات کی فہرست صرف علامتی ہے اور انتخابی رجسٹریشن افسر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ دیگر ثبوتوں کو بھی قبول کرے۔
کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی غرض سے شہریوں سے شہریت سے متعلق مناسب دستاویزات طلب کرنا اس کا آئینی اختیار ہے، جو آئین کے آرٹیکل 324 اور 326 کے تحت اسے حاصل ہے۔ اس نے وضاحت کی کہ اگر کسی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوتا تو اس کی شہریت ختم نہیں مانی جا سکتی لیکن ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کے لیے شہریت کا دستاویزی ثبوت دینا ضروری ہے۔
