
کریم نگر: کبھی کبھی زندگی کے فیصلے چند لمحوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ اتوار کی صبح نیٹ (NEET) امتحان کا دن تھا۔ ہزاروں خواب آنکھوں میں سجائے نوجوان امتحانی مراکز کا رُخ کر رہے تھے۔
انہی میں ایک بیٹی بھی تھی جو ویمولواڑ سے اپنی ماں کے ہمراہ کریم نگر کے خواتین ڈگری کالج پہنچیصرف تین منٹ کی تاخیر سے۔
لیکن ان تین منٹوں نے اُس طالبہ کا برسوں کا خواب چھین لیا اُس ماں کی قربانیوں کا صلہ چھین لیا، جس نے مزدوری کر کے زیور گروی رکھ کر، قرض لے کر اپنی بیٹی کو کوچنگ دلوائی تھی۔ دروازے بند ہو چکے تھے۔ ماں نے منتیں کیں، ہاتھ جوڑے، آنکھوں سے اشک رواں تھے، زبان پر صرف ایک درخواست “میری بچی کو اندر جانے دیں، اُسے صرف ایک موقع دے دیں!”
مگر اصولوں کی زنجیروں میں جکڑے افسروں نے دل کی زبان سننے سے انکار کر دیا۔ اور بیٹی جو ایک ڈاکٹر بننے کا خواب لے کر اٹھی تھی دروازے کے باہر کھڑی صرف اپنی قسمت کو تکتی رہی۔ماں کی سسکیاں، بیٹی کی خاموشی، اور خوابوں کا جنازہ سب کچھ اسی لمحے دفن ہو گیا۔
