آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’بہار جیسی غریب ریاست میں عوام کے پیسے سے 2 ارب 25 کروڑ روپے میں دہلی سے 600 ڈیجیٹل رتھ بلا کر ’مہیلا سنواد‘ کے نام پر ضائع کیے جا رہے ہیں۔‘‘


نتیش کمار / سوشل میڈیا
بہار میں رواں سال ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ایک بار پھر ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نشانہ بنایا ہے۔ آر جے ڈی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔ پوسٹ میں منظوم شکل میں نتیش کمار پر تنقید کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس 74 سالہ نام نہاد جوان نے بہار کو برباد کر دیا ہے۔ کورونا میں کئی ماہ تک گھر سے باہر نہیں نکلے۔ انہوں نے نہ تو کبھی خواتین کی عزت کی اور نہ ہی نوجوانوں کی۔ بہار کو تمام شعبوں میں حاشیے پر لے جانے والے صرف زبانی طور پر گڈ گورننس کا دعویٰ کرتے ہیں۔
پوسٹ میں آر جے ڈی نے آگے لکھا کہ کبھی وہ فضول کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی بے ہودہ باتیں کہہ کر سب کو شرمندہ کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی لکھا کہ ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کب کیا کر دیں گے اور کیا کہہ دیں گے۔ یہی ڈر و خوف ان کی پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ نتیش کمار کی ذہنی حالات پر ہمیشہ سوال اٹھانے والی آر جے ڈی نے آگے لکھا کہ ان کا دماغ اور زبان ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ اس کے باوجود بھی ان کی خواہش ہے کہ وہ ہمیشہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان رہیں۔ بہار حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ بہار میں بدعنوانی رشوت خوری اور افسر شاہی کا دور چل رہا ہے۔ بہار کی عوام اس بار تبدیلی چاہتی ہے اور کہہ رہی اب بس کرو ’کرسی کمار۔‘ پوسٹ کے اخیر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بار بہار میں آر جے ڈی کی حکومت بنائیں گے اور تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے۔
اس سے قبل آر جے ڈی رہنما اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتہ (19 اپریل) کو پریس کانفرنس کر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار جیسی غریب ریاست میں عوام کے پیسے سے 2 ارب 25 کروڑ روپے میں دہلی سے 600 ڈیجیٹل رتھ بلا کر ’مہیلا سنواد‘ کے نام پر ضائع کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ 225 کروڑ کی رقم کتنی بڑی ہے جو وہ اپنی انتخابی مہم رتھ چلانے کے لیے سرکاری خزانے سے خرچ کر رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
