مدرسہ انوارسیفی میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد عطائے خلعت و دستاربندی

حیدرآباد: عمدۃ الحکمت حضرت مولانا الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری صاحب قبلہ بانی مدرسہء عربیہ انوارالعلوم ملحقہ جامعہ نظامیہ بھوانی نگر حیدرآباد دکن نے کہا کہ الحمدللہ آج سیفیہ ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے تین سالہ تکمیل و مدرسہء انوار سیفی ملحقہ جامعہ نظامیہ کے پانچ حفاظ طلباء اور ایک طالبہ کی تکمیل حفظ القرآن مکمل کرنے پر مسجد بمقام مسجد سیفی واقع سلیمان نگر چنتل مینٹ حیدرآباد میں منعقدہ پہلا جلسہ سالانہ میں شرکت اور شیوخ و اساتذہء کرام جامعہ نظامیہ کے خطابات سے ہم اور عامۃ المسلمین محظوظ ہوئے ہیں جو ہمارے لئے توشہء آخرت ہے۔

مولانا نے سلسلہء خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ والارضیین حقیقت آگاہ معرفت دستگاہ اُستاذسلاطین آصفیہ و اولیاء اللہ علامہ الحاج حافظ امام محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ بہادر بانیء جامعہ نظامیہ کے بافیض ادارہ سے آج طلباء اور حضرت نجم المشائخین بدر الکاملین سیف ملت حضرت مولانا الحاج ابوالخیر سیف اللہ شاہ امیری نوری چشتی قادری بانی وناظم اعلیٰ مدرسہء انوار سیفی ملحقہ جامعہ نظامیہ کے خلفاء ومریدین و معتقدین نے بڑی تعداد میں جامعہ نظامیہ کے امتحانات سالانہ میں امامت، خطابت، قضاءت ڈپلوما ان عربک ودیگر امتحانات میں شرکت کی سعادت اور کامیاب امتحان دیئے ہیں، ان کی کامیابی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ یہ اسناد بارگاہ نبویؐ میں قبولیتِ دوام رکھتی ہیں۔

مولانا نے مزید کہا کہ جامعہ نظامیہ کے 1295 ھجری کے پہلے سالانہ جلسہء تقسیم اسناد کے موقع پر اس وقت کے ناظم اعلیٰ حضرت عبدالصمد رودلویؒ صاحب سے عالم رؤیا میں خاتم النبیین شفیع المذنبینؐ نے جامعہ نظامیہ کی اسناد طلب فرماتے ہوئے اپنی دستخط خاص سے مزین فرما دیا۔ الحمدللہ ہماری سندیں دنیا کی اسناد سے جامعہ نظامیہ کی سندوں کے سامنے پھیکی وماند پڑجاتی ہیں۔

جامعہ نظامیہ کی جانب سے تصنیف کردہ معرکۃ الآراء کتاب “مکارم الحفظہ” کے حوالہ سے مولانا نعمت اللہ قادری نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک حافظہ لڑکی کا نکاح غیر حافظ قرآن حکیم لڑکے سے ہوا۔

اس لڑکی نے اپنی قربت کے لئے شرط رکھی کہ میں حافظہ ہوں جب تک تم حفظ قرآن مکمل نہیں کرو گے ہم مل نہیں سکتے۔

ایک خداترس بزرگ سے ملاقات پر نماز فجر میں پیچھے پڑھنے کے لئے تاکید کی۔ الحمدللہ سلام پھیرتے ہی سیدھی جانب کے تمام افراد حافظ قرآن بن گئے اور بائیں جانب کے مصلیان ناظرہ قرآن حکیم ازبر ہوگیا۔

مولانا نعمت اللہ قادری نے یہ بھی کہا کہ مدرسہء انوار سیفی کا قلیل عرصہ تین سال قبل رہبر راہ شریعت پیر طریقت امیر جامعہ جامعہ نظامیہ مفکر اسلام زین الفقہاء حضرت علامہ مفتی الحاج خلیل احمد صاحب قبلہ نے قائم فرمایا تھا۔ الحمدللہ آج پہلے بیاچ میں پانچ طلباء حفاظ اور ایک لڑکی حافظہ بنی ہیں۔

مولانا الحاج حافظ مفتی سید احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ نے کہا کہ جن کو علم دین دیا گیا ہے ان کی عظمت و رفعت مقام و مرتبہ بلند ہوجاتا ہے۔

قرآن حکیم کی نسبت سے حفاظ کے سینے پاکیزہ ہوجاتے ہیں۔ شہرہ آفاق جامعہ نظامیہ سے ایک معرکۃ الآراء تصنیف “مکارم الحفظہ” طبع ہوئی ہے جس میں کنزالعمال کے حوالہ سے کہا گیا کہ زندگی بھر قرآن حکیم کی دنیا میں خدمت کرنے والوں کی بعد وفات قبروں میں فرشتے ان کی خدمت کرتے ہیں۔

شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ حضرت مولانا ڈاکٹر حافظ مفتی الحاج محمد شبیر احمد یعقوبی چشتی قادری امام و خطیب جامع مسجد حکیم میر وزیر علیؒ نے کہا کہ جن کے سینوں میں اللہ جل مجدہ کا قرآن حکیم محفوظ ہے، کل بروز قیامت حفاظ کرام سے کہا جائے گا کہ ایک ایک آیت پڑھتے جاؤ تاکہ تمہارے درجات بلند کرتے چلے جاؤ گے۔

حفاظ جہاں تک پڑھتے ہوئے جاکر رک جائینگے، اس مقام تک ان کی بلندی کی جائے گی۔ قرآن حکیم کی تلاوت اللہ جل مجدہ کے قرب کا ذریعہ ہے، حتمی طور پر اللہ جل مجدہ جہاں پر قرآن حکیم کی حفظ کی بناء پر ہی وہاں سے چالیس سال تک عذاب الہی اٹھا لیا جاتا ہے۔

مولانا یعقوبی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ روزآنہ کا قرآن حکیم کی تلاوت کا معمول بنالیں، سورہء بقرہ کی آخری آیتوں کی تلاوت کرنے والے حفظ و امان میں رہتے ہیں۔

حضرت مولانا حافظ الحاج مفتی محمد عبد الطیف نقشبندی شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ و امام تاریخی مکہ مسجد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفظ قرآن حکیم کی تکمیل کی نسبت و وساطت سے ہماری شرکت باعث برکت و رحمت اور باعث مغفرت و نجات ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر لی ہے۔

چودہ سو سال قبل صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صحیفوں کی شکل میں قرآن حکیم کو محفوظ کردیا ہے۔ اس وقت سے لے کر آج تک قرآن پاک کا ایک نقطہ یا سطر میں بھی کسی قسم کی تحریف و تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اللہ جل مجدہ نے قرآن حکیم کی حفاظت حفاظ کے ذریعہ فرمارہا ہے۔

مولانا حافظ الحاج سید شاہ انعام اللہ قادری مزمل بابا مولوی کامل جامعہ نظامیہ، مولانا حافظ اویس بابا قادری جانشین حضرت نجم المشائخ کے خطابات کے علاوہ طلباء مدرسہ نے بھی تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔

اس موقع پر حضرت مولانا حافظ سید شاہ کلیم اللہ قادری عادل آباد سجادہ نشین حضرت سید شاہ لطیف پیر قادریؒ، برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیہؒ گوگی شریف حضرت سید شاہ چندا حسینی مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ، بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ، حضرت مولانا ایس ایم سراج الدین مولوی کامل جامعہ نظامیہ وجئے واڑہ، مولانا حافظ محمد بشارت علی خان نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ شادنگر، مولانا محمد منظور احمد نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ اور مولوی حافظ محمد انس سیفی قادری و دیگر سینکڑوں حضرات موجود تھے۔

صلوۃ وسلام کے بعد حضرت مولانا حافظ مفتی اسماعیل الہاشمی نقشبندی مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ نے رقت آمیز دعا کی۔ جمیع شرکاء کے لئے تناول طعام کا معقول نظم و نسق کیا گیا تھا۔



ہمیں فالو کریں


Google News

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *