حیدرآباد 4 مئی (اردو لیکس) جناب سید مسکین احمد صدر داغ دہلوی فاؤنڈیشن نے کہا کہ حضرت امیر مینائی اور داغ دہلوی نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو زبان وادب کی جو خدمت کی ہے وہ صرف اہل ہندوستان کے لیے ہی نہیں بلکہ سارے جہاں کے اردو عوام کے لیے بڑی ہی قدر و منزلت کی اہمیت کی حامل ہے ان شعرا کرام نے اپنی شاعری کے ذریعے سماج کے حساس مسائل کی نشاندہی کی اور عوامی مسائل کو بہترانداز میں پیش کرنے کا
عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار داغ دہلوی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اردو مسکن خلوت میں منعقدہ یادگار مشاعرہ بہ عنوان “اردو ہے جس کا نام” سے خطاب کرتے ہوئے کیا جناب مسکین احمد نے کہا کے داغ دہلوی اور حضرت امیر مینائی حیدرآباد میں اسودہ خاک ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان عظیم الشان شعرائے کرام کے مزارات خستہ حالی کا شکار ہیں چونکہ یہ قبور درج اوقاف ہیں اس لیے ان قبور کی مرمت اور اسے اردو کا مرکز بنانے کے لیے وقف بورڈ سے نمائندگی کی گئی ہے لیکن اس
جانب ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اردو بولنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقف بورڈ کو توجہ دلائیں کہ حضرت داغ دہلوی اور حضرت امیر مینائی کے مزارات کی خستہ حالی کو دور کریں اور ان مزارات کو اردو والوں کے لیے مرکز بنائیں انہوں نے کہا کہ حضرت امیر مینائی اگرچہ کے لکھنو میں پیدا ہوئے لیکن ان کی آخری آرام گاہ حیدرآباد میں ہی ہے اسی طرح داغ دہلوی بھی جو کہ دہلی میں پیدا ہوئے ان کی آخری آرام گاہ بھی حیدرآباد میں احاطہ درگاہ یوسفین نام پلی میں ہے افسوس اس بات کا ہے کہ ان دو عظیم الشان شعراء کی خدمات کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم حضرت امیر مینائی اور داغ دہلوی کی یاد میں
جلسے اور مشاعرے منعقد کرتے رہتے ہیں اب تک داغ دہلوی کی یاد میں چھ مشاعرے منعقد کیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اردو کا گڑھ ہے اور یہاں اردو کا زبردست ادبی ماحول پایا جاتا ہے انہوں نے شہ نشین پر موجود ڈائریکٹر دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی پروفیسر ایس اے شکور اور سابق صدر نشین اردو اکیڈمی جناب سید شاہ نور الحق قادری ایڈوکیٹ کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ حضرات اردو زبان وادب کی خدمت کرنے والوں کی قدر اور ستائش کرتے ہیں جو ہمارے لیے باعث
فخر ہے انہوں نے اس مشاعرے میں شرکت کرنے والے دبئی کے ممتاز عالمی شہرت یافتہ شاعر فاروق العرشی کی اردو دوستی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی اردو سے دلچسپی رکھنے والے عرب شاعر ہیں زبیر فاروق العرشی نے اب تک 110 کتابیں لکھی ہیں اور وہ عربی ہونے کے باوجود اردو میں شاعر ی کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی نے کہا کہ حیدرآباد شہر ہمارے لیے بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے شہر حیدرآباد کو شہر حسن وفا قرار دیتے ہیں کہا کہ ہم نے شاعری کی
شروعات حیدرآباد ہی سے کی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ٹیپو سلطان کا مزار بھی دیکھا اور بہت متاثر بھی ہوا ہوں انہوں نے اس موقع پر ایک شعر سنایا
عزت نہ پا سکو گے بزرگوں کے نام سے
جانیں گے لوگ تم کو تمہارے ہی کام سے
ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی نے کل ہند داغ دہلوی فاؤنڈیشن کے بانی و صدر جناب مسکین احمد کی اردو دوستی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جناب مسکین احمد موجودہ دور میں اردو والوں کے لیے بڑی ہی اہمیت کے حامل ہیں وہ نامور اور قدیم شعراء کرام کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ہر سال مشاعرے کرواتے ہیں اپنے اسلاف کو یاد رکھنا اور ان کی یاد میں مشاعرے کروانا یہ اردو کی بہت بڑی
خدمت ہے ممتاز منفرد لب و لہجے کے استادشاعر ڈاکٹر سردار سلیم نے داغ دہلوی فاؤنڈیشن کے صدر جناب مسکین احمد کی اردو خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ داغ دہلوی دلی میں پیدا ہوئے اور حیدراباد میں آسود خاک ہوئے داغ دہلوی کی یاد کو تازہ کرنے کا جناب مسکین احمد مکمل حق ادا کر رہے ہیں جناب مسکین با ذوق سامعین کے لیے عمدہ شعراء کے ساتھ مشاعرے منعقد کرتے ہیں انہوں نے ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی دبئی کی اردو دوستی کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا ڈاکٹر سردار سلیم کی خواہش پر شہ شین پر موجود معززین نے باذوق سامعین کے لیے تالیاں بجائیں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مشاعرے میں شعرا کرام کے ساتھ ساتھ
باذوق سامعین کا بھی خیر مقدم کیا گیا اس عمل کے محرک ڈاکٹر سردار سلیم کے اس انداز کو بھی سامعین نے تالیوں کی گونج میں خیر مقدم کیا طنز ومزاح کے ممتاز و معروف شاعر جناب لطیف الدین لطیف کی ابتدائی نظامت کے بعد ڈاکٹر سردار سلیم نے مشاعرے کی نہایت ہی عمدگی کے ساتھ نظامت انجام دی برجستہ اشعار اور برجستہ محاوروں کے ذریعے ڈاکٹر سردار سلیم نے اس یادگار مشاعرے کو اور بھی زینت بخشی پروفیسر ایس شکور ڈائریکٹر دائرۃ المعارف، رحیم اللہ خان نیازی سابق صدر نشین
اردو اکیڈیمی، پروفیسر مجید بیدار، جناب خسرو نواب بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی اور جناب مسکین احمد کی اردو خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور داغ دہلوی وحضرت امیر مینائی کے مزارات کی تزیٔین نو کے لیے جدوجہد کو قابل ستائش اقدام قرار دیا ۔ جناب سید شاہ نور الحق قادری ایڈوکیٹ سابق صدر نشین اردو اکیڈمی کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا جس میں دبئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز و معروف عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی ، محمد علی وفا کویت ، انور امان اکبر ابادی آگرہ ،محترمہ نغمہ علی گڑھی، جناب رفیق سوداگر کرناٹک ،کے علاوہ ممتاز و معروف مخدوم ایوارڈ یافتہ استاد شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل ، سردار سلیم ، محترمہ تقیہ غزل
کے علاوہ مزاحیہ شعراء کرام جناب شاہد عدیلی ،جناب وحید پاشاہ قادری اورجناب لطیف الدین لطیف نے اپنے طنز و مزاح سے بھرپور کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا ، شیخ نعیم مشیر اعلیٰ اور معاون صدر الدین شاہد نے انتظامات کی نگرانی کی جناب لطیف الدین لطیف کے شکریہ پر اس شاندار مشاعرے کا اختتام عمل میں آیا.

