صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا دورہ گوداوری کھنی۔ آٹو ڈرائیورس کی مشکلات کی بھی سماعت

سنگارینی ورکرس کو بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں

کانگریس نے انتخابی وعدوں کو فراموش کر دیا۔ مسائل کی یکسوئی کے لئے ہر ممکن جدوجہد کا عزم

صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا دورہ گوداوری کھنی۔ آٹو ڈرائیورس کی مشکلات کی بھی سماعت

 

گوداوری کھنی: سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے “بائی باٹا” پروگرام کے تحت گوداوری کھنی کے 11 انکلائن میں سنگارینی کوئلہ مزدوروں کے ساتھ میٹنگ کی اور ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔کویتا نےحکومت اور انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں سے ملاقات کے لئے آنے پر گیٹ بند کر دی گئی ۔

 

انہیں مزدوروں سے ملاقات سے روکا جا رہا ہے، جو مزدوروں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مزدور کسی بھی سیاسی جماعت کے نمائندوں سے بات نہیں کر سکتے؟ انہوں نے الزام عائد کیاکہ سنگارینی انتظامیہ پولیس کو لا کر اپوزیشن کو روک رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں سنگین غلطیاں ہو رہی ہیں۔کویتا نے کہا کہ کانگریس قائدین نے انتخابات سے قبل ان ہی مزدوروں کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں اور ان کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئلہ بیلٹ کے عوام نے انہیں کامیاب بنایا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نہ تو بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں

 

اور نہ ہی مزدوروں کے تحفظ کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو مناسب ہوا، پانی، جوتے، دستانے اور معیاری آلات تک میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے سنگارینی میں بڑھتی سیاسی مداخلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے چھوٹی چھوٹی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے مزدوروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں

 

اور ان کے مسائل اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ مزدوروں کو معمولی باتوں پر میمو دے کر ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ افسران کے لئے الگ یونینیں موجود ہیں، تو مزدوروں کو بھی اپنے حقوق کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے افسران سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ کام لیں۔انہوں نے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزیر اعلیٰ ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں

 

اور غیر سنجیدہ بیانات دے کر پڑوسی ریاستوں کو مداخلت کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی کمزوری کی وجہ سے دیگر ریاستوں کے قائدین تلنگانہ کے معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔کویتا نے کہا کہ سنگارینی کو بچانے کے لئے مرکزی حکومت کو مزید کوئلہ بلاکس الاٹ کرنے چاہئیں جبکہ ریاستی حکومت کو زیر زمین کان کنی (انڈر گراؤنڈ مائننگ) کو فروغ دینا چاہئے تاکہ ماحول کا تحفظ ہو اور روزگار کے مواقع بڑھیں

 

۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنگارینی فنڈس سے قائم میڈیکل کالج میں مزدوروں کے بچوں کے لئے کم از کم 25 فیصد نشستیں مختص کی جائیں اور ان کے لئے معیاری تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں۔کویتا نے کہا کہ ان کی پارٹی اور ٹریڈ یونین ایچ ایم ایس مزدوروں کے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں اور اگر مزدوروں کو ہراساں کیا گیا تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

 

انہوں نے مزدوروں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن جدوجہد کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر براہ راست مداخلت بھی کی جائے گی۔ بعد ازاں کلواکنٹلہ کویتا نے گوداوری کھنی کے سنگارینی ایریا اسپتال کا معائنہ کرنے کے بعد عوامی مسائل کا جائزہ لیا ۔

 

انہوں نے اسپتال سے گوداوری کھنی چوراہے پر واقع ایچ ایم ایس دفتر تک آٹو رکشا میں سفر کیا اور راستہ میں آٹو ڈرائیوروں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے مسائل اور مشکلات سے واقفیت حاصل کی۔کویتا نے آٹو ڈرائیوروں کے درپیش مسائل کو بغور سنا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *