اس بیس کا آپریشن کرنے والا 412 واں ٹیسٹ ونگ فضائیہ کے سبھی طیاروں، ہتھیار نظاموں، سافٹ ویئر اور دیگر آلات کی خرید سے پہلے نیز ان کی پوری معیاد کے دوران انسپکشن کرتا ہے۔ یہی وہ فوجی اڈہ ہے جہاں 1947 میں فضائیہ کے ٹیسٹنگ پائلٹ چک یگر نے میک 1.05 کی رفتار حاصل کر کے آواز کی اسپیڈ کو پہلی بار پار کیا تھا۔ طیارہ سیکورٹی ماہر فیج گجیٹی کا ماننا ہے کہ طیارے کا پرواز کے فوری بعد بغیر زیادہ اونچائی حاصل کئے حادثے کا شکار ہونا کسی پرواز کنٹرولنگ سسٹم میں خرابی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا جلد بازی ہوگی۔ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ رکھ رکھاؤ کے بعد کنٹرولنگ سسٹم میں کوئی گڑبڑی رہ گئی ہو، انجن میں بڑی خرابی ہوئی ہو یا انسپکشن کے دوران کئے جا رہے کام کے دوران کوئی آلہ ناکام ہوا ہو۔
امریکہ کا بی-52 بمبار طیارہ پرواز کے فوری بعد ہوا کریش، حادثے میں 8 لوگوں کی موت
