اس معاہدے پر رواں ہفتے کے آخرمیں جنیوا میں باضابطہ طور پر دستخط ہونے کی امید ہے۔ سوئٹزر لینڈ، امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر ساتھ مل کر اسے پورا کرنے کی تیاری میں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’بے حد طاقتور دستاویز‘ بتایا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ دستخط کے سلسلے میں ہونے والی تقریب کے بعد اس کا مسودہ عام کر دیا جائے گا۔
’معاہدہ ہو یا نہ ہو، تہران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے‘، ایران-امریکہ معاہدے سے بوکھلائے نیتن یاہو کی دھمکی
