
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ معاہدہ خطے کو تنازع شروع ہونے سے پہلے جیسی صورتحال کی جانب واپس لے جا رہا ہے، تاہم اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایران اب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کی بدولت مذاکرات میں دباؤ ڈالنے کے ایک نئے ذریعے کا حامل بن چکا ہے۔
رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ آبی گزرگاہ دنیا میں تیل، قدرتی گیس اور متعلقہ مصنوعات، بشمول کیمیائی کھادوں، کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نے عالمی معیشت کو شدید جھٹکوں سے دوچار کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ یٹڈ پریس نے مزید اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے اعلان کردہ اہداف کے باوجود تہران اپنی میزائل صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، اپنے علاقائی اتحادیوں، بالخصوص حزب اللہ، کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے جوہری پروگرام کے لیے اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی ذخیرہ اندوزی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
