ایک دوسری پوسٹ میں ٹرمپ نے اس معاہدے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا۔ کئی صدور نے ایران کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی اور میرے سامنے سبھی ناکام رہے۔ خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار ایسا صدر ملا ہے جو انہیں حقیقی امن حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ جمعہ کو معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کے بعد، خطے اور پوری دنیا کے لیے دونوں سمتوں میں دوبارہ تیل کی سپلائی شروع ہو جائے گی!‘‘ واضح رہے کہ اس اعلان کے بعد سے ہی دنیا نے راحت کی سانس لی ہے۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس کا خیرمقدم کیا۔
وزیر اعظم مودی نے امریکہ-ایران معاہدے کا کیا استقبال، خطے میں امن اور استحکام کی امید ظاہر کی
