
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی قوم کے شہداء کا بدلہ لینے کا مسئلہ ایک مستقل مسئلہ ہے اور اس قوم کے خلاف کیے گئے بڑے جرائم کو کوئی بھی نظر انداز یا بھول نہیں سکتا؛ لہٰذا یہ ایک مستقل اور مسلسل مطالبہ ہو گا۔
ہم بعنوانِ وزارت خارجہ، ایرانی عوام کے خلاف گھناؤنے جرائم کو دستاویز بنانے اور اس کی وضاحت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ یہ کام مستقل اور مسلسل ہے اور ہم ان جرائم کو ریکارڈ کرنے اور ان کی وضاحت کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے ہر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کریں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کے خاتمے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور دوسرے فریق کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کا مطلب ایرانی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم کو بھول جانا یا معاف کرنا نہیں ہوگا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کہا کہ معاہدے کے مقام میں تبدیلی مذاکرات میں شریک تمام ممالک کا متفقہ فیصلہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ایران کا ردعمل بھی ویسا ہی ہوگا، اقوامِ متحدہ موجودہ صورتحال میں سرخرو نہیں ہوئی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور غاصب اسرائیل کے مظالم کو نہیں بھولیں گے۔
