ٹرمپ نے ایران کی محدود سطح پر یورینیم افزودگی کو تسلیم کر لیا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ ایران کو ہمیشہ کے لیے کم سطح کی یورینیم افزودگی تک محدود رکھا جائے گا، جو کسی بھی صورت میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ ایران کو مستقل طور پر کم سطح کی یورینیم افزودگی تک محدود رکھا جائے گا، جو کسی بھی حالت میں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کے قابل نہیں ہوگی۔

ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس معاہدے کے حوالے سے متعدد دعوے بھی کیے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اگر جوہری معاہدہ ناکام ہو گیا تو فوجی کارروائی کا آپشن دوبارہ زیر غور آ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن خطے کی آمدنی کا 20 فیصد حاصل کرنے کے بدلے خطے کے نگہبان کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید دعوی کیا کہ فروری کے اواخر میں ایران پر حملے کا فیصلہ اور بحری محاصرہ نافذ کرنے کے اقدامات نے مشرق وسطیٰ کے تزویراتی حالات کو امریکی مفادات کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ بالآخر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آبنائے ہرمز ہمیشہ کے لیے بغیر کسی محصول یا رکاوٹ کے کھلی رہے۔

انہوں نے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ معاملات طے کرنا انتہائی مشکل ہے اور انہیں ہمارا بہت شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل کا وجود نہیں رہتا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *