بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت روشن اور باکردار معاشرے کی بنیاد ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 10 جون (پریس ریلیز):خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور تعمیرِ شخصیت کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ بچے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور والدین کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ اگر ان کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کی جائے تو یہی بچے مستقبل میں ملت و معاشرے کے معمار، علم و اخلاق کے پیکر اور قوم کے سرمایۂ افتخار بنتے ہیں، لیکن اگر ان کی تربیت سے غفلت برتی جائے تو یہی نسل مختلف فتنوں اور گمراہیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے جو سنہری اصول عطا فرمائے ہیں، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کے ساتھ شفقت، محبت، حسنِ اخلاق، عزت افزائی اور حکمت کے ساتھ اصلاح کا درس دیا۔ احادیثِ مبارکہ میں بچوں کو اچھے آداب سکھانے، ان کی عزت کرنے اور ان کی شخصیت کو اعتماد و محبت کے ساتھ پروان چڑھانے کی خصوصی تاکید موجود ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اس کی شخصیت سازی میں والدین، گھر کا ماحول، اساتذہ اور معاشرہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خصوصاً ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، جس کی گود سے بچے کے کردار، اخلاق اور سوچ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ عظیم ماؤں نے ہی عظیم شخصیات کو جنم دیا۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تربیت ہی کا اثر تھا کہ امام حسنؓ، امام حسینؓ اور سیدہ زینبؓ جیسی عظیم ہستیاں دنیا کے سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی ظاہری ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ان کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی ہے۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی، ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہے، جبکہ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ، دوسروں سے موازنہ اور گھریلو جھگڑے بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ گھروں کا ماحول محبت، سکون اور دینی اقدار سے آراستہ رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں موبائل، انٹرنیٹ اور بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات، اچھے اخلاق، سچائی، احترامِ انسانیت اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا موصوف نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کی اصلاح ہمیشہ محبت، شفقت اور حکمت سے فرمائی۔ یہی اسوۂ حسنہ آج بھی بہترین تربیتی نمونہ ہے۔ والدین اگر بچوں کے ساتھ شفقت، دعا، حسنِ سلوک اور مثبت رہنمائی کا رویہ اختیار کریں تو بچے نہ صرف اچھے انسان بنیں گے بلکہ معاشرے کے مفید اور باکردار شہری بھی ثابت ہوں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز بہترین تعلیم اور اعلیٰ تربیت میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنی نسلوں کو دین، اخلاق اور علم سے آراستہ کریں گے تو مستقبل روشن ہوگا اور معاشرہ امن، محبت اور خیر خواہی کا گہوارہ بن جائے گا۔
