سفر حج انسان کے قلب کو نور ایمان سے منور کرتا ہے
ریاستی حج کمیٹی اور چشتی فاؤنڈیشن کے مصری گنج میں عازمین کے آخری تربیتی اجتماع سے علماء و مشائخ کے خطابات

حیدرآباد 3 مئی (پریس نوٹ) سفر حج انسان کے دل کو نور ایمان سے بھر دیتا ہے۔ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے یہ ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو صاحب استطاعت ہوتا ہے۔ حج اسلام کی وہ عظیم عبادت ہے جس کا کوئی بدل نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندے کی مکمل حاضری، عاجزی اور اطاعت کا عملی اظہار ہے۔
تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیراہتمام اور چشتی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے تعاون و اشتراک سے محبوب فنکشن ہال مصری گنج میں عازمین حج کے آخری مرکزی تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء و مشائخ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا سید شاہ غلام افضل خسرو بیابانی صدرنشین حج کمیٹی نے صدارت کی۔ مولانا خسرو بیابانی نے کہا کہ حیدرآباد میں عازمین حج کے تقریباً 16 اجتماعات منعقد ہوئے۔
انہوں نے عازمین سے کہا کہ اس مرتبہ کھانا پکانے کی اجازت نہیں ہے۔ کیٹرنگ کمپنیوں کے ذریعہ منگوایا جاسکتا ہے۔ مرد و خواتین کو علحدہ کمروں میں رہائش فراہم کی جارہی ہے۔ مولانا مفتی محمد انوار احمد قادری کنٹرولر امتحانات جامعہ نظامیہ نے اس موقع پر حج کے پانچ دن جیسے اہم عنوان پر خصوصی تربیت کی اور عازمین کے سوالات کے تفصیلی جوابات فراہم کئے۔ مولانا انوار احمد نے کہا کہ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے
، یہ ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو صاحب استطاعت ہو۔ حج، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ایسا رکن ہے جو اجتماعیت اور اتحاد و یگانگت کا آئینہ دار ہے۔ مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ صدر مرکزی مجلس قادریہ نے کہا کہ روضۂ نبویؐ پر حاضری ایک عظیم سعادت ہے۔ روضۂ رسولؐ پر حاضری دراصل اُس ہستی کے حضور سلام پیش کرنا ہے، جس کے ذریعہ ہمیں ایمان، قرآن اور ہدایت نصیب ہوئی۔
مؤمن کا دل اس لمحہ محبت و عقیدت سے لبریز ہوجاتا ہے اور زبان درود و سلام سے معطر ہوجاتی ہے۔ یہ حاضری ادب، عاجزی اور کامل احترام کا تقاضا کرتی ہے۔اکابرین امت نے ہمیشہ حج کے ساتھ زیارت مدینہ کو اپنی زندگی کا قیمتی ترین لمحہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ سفر ہے جو انسان کے دل کو نور ایمان سے بھر دیتا ہے اور اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے
۔ مولانا ڈاکٹر سید خلیل اللہ اویس بخاری ڈائرکٹر ابوالفدا اسلامک ریسرچ سنٹر نے کہا کہ حج کے دوران آداب کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے، حاجی کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں صبر و تحمل اختیار کرے، کسی کو تکلیف نہ دے، ذکر و دعا میں مشغول رہے اور ہر طرح کی لغویات اور گناہوں سے بچے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو حج کو مقبول بناتے ہیں اور انسان کے اندر روحانی انقلاب پیدا کرتے ہیں
۔ حج کے چند بنیادی فرائض ہیں، جن کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا، جیسے احرام کے ساتھ نیت، میدان عرفات میں وقوف اور طواف زیارت اسی طرح کچھ واجبات بھی ہیں، مثلاً مزدلفہ میں قیام، جمرات کو کنکریاں مارنا، صفا و مروہ کی سعی، حلق یا قصر اور طواف وداع۔ ان واجبات میں کمی رہ جائے تو دم لازم آتا ہے، مگر حج ہو جاتا ہے۔جو شخص اس عبادت کو اس کے آداب، فرائض اور واجبات کے ساتھ ادا کرتا ہے، وہ گناہوں سے پاک ہو کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے۔
مولانا سید قادر محی الدین قادری جنید پاشاہ زرین کلاہ جانشین حضرت مقبول ملتؒ نے کہا کہ حج اور زیارت روضۂ نبویؐ ہر مسلمان کی زندگی کی عظیم ترین سعادت ہے۔ یہ وہ مقدس سفر ہے جس میں بندہ اپنے ربّ کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے اور پھر محبوب خداؐ کے در اقدس پر سلام پیش کرنے کی نعمت حاصل کرتا ہے، یہ محض عبادت نہیں بلکہ ایمان کی تازگی، رسول اللہؐ کی محبت کا اظہار اور روحانی بالیدگی کا حسین امتزاج ہے۔
نگران اجتماع مولانا ڈاکٹر خواجہ شاہ محمد شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ صدر چشتی فاؤنڈیشن حیدرآباد نے کہا کہ حج اسلام کی وہ عظیم عبادت ہے جس کا کوئی بدل نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندے کی مکمل حاضری، عاجزی اور اطاعت کا عملی اظہار ہے۔ دنیا کی تمام عبادات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر حج ایک جامع عبادت ہے جس میں نماز، روزہ، ذکر، دعا، قربانی اور ایثار سب یکجا ہوجاتے ہیں۔حج انسان کو اس کے ربّ سے جوڑ دیتا ہے۔ جب بندہ احرام باندھ کر “لبیک اللہم لبیک” کی صدا بلند کرتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ میدان عرفات میں وقوف انسان کو قیامت کے دن کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر شخص اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہوگا۔ طوافِ کعبہ بندے کی محبت اور مرکزِ توحید سے وابستگی کی علامت ہے۔
مولانا عرفان اللہ شاہ نوری صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام نے کہا کہ حج اسلام کا عظیم رکن ہے، جو بندے کو ظاہری اور باطنی پاکیزگی عطا کرتا ہے، یہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ اطاعت، قربانی اور اللہ تعالیٰ کے عشق کا عملی مظاہرہ ہے۔ ایک سچا حاجی وہ ہے جو اخلاص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ فریضہ ادا کرے اور اپنے اخلاق و کردار کو سنوارے۔ ڈاکٹر شعیب احمد خان معروف نیفرولوجسٹ نے کہا کہ حج ایک روحانی عبادت کے ساتھ جسمانی مشقت کا سفر بھی ہے
، اس لیے صحت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔پانی کا زیادہ استعمال کریں، گرمی اور ہجوم کی وجہ سے پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ ہلکی اور متوازن غذالیں، زیادہ مرغن اور بھاری کھانوں سے پرہیز کریں۔ سایہ اور آرام کا خیال رکھیں۔ دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں، وقفہ وقفہ سے آرام کریں۔دوائیں ساتھ رکھیں۔ بخار، نزلہ، درد اور دیگر ضروری ادویات ہمراہ رکھیں، خاص طور پر اگر آپ کو ذیابیطس یا بلڈپریشر جیسی بیماریاں ہوں، صحت مند رہنا ہی عبادت کو بہتر طریقہ سے ادا کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے احتیاط، صفائی اور اعتدال کو اختیار کریں
۔ جناب محمد مبین رکن اسمبلی بہادرپورہ نے عازمین حج فریضہ کی ادائیگی کے بعد گناہوں سے پاک ہوکر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ انہوں تمام عازمین حج کو مبارکباد دی اور خواہش کی کہ وہ ملک و ملت کے حفاظت، قائدین مجلس کی سلامتی اور ترقی کے لئے دعاؤں کی اپیل کی۔ جناب ایم اے مقتدر بابا سابق کارپوریٹر و کنوینر اجتماع نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور تہنیت پیش کی۔
مولانا حافظ شاہ محمد قطب الرحمن افتخاری نے اجتماع کا کاروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ ابتداء میں قاری محمد محی الدین افتخاری واصل پاشاہ کی قرات کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ حافظ و قاری شیخ سلیم نقشبندی، جناب محمد شفیع قادری اور جناب مرزا عارف اللہ بیگ قادری نے نعت شریف پیش کی۔ شہ نشین پر مولانا سید نجم الدین قادری واحدی، مولانا صوفی عبدالصمد شطاری، مولانا غلام سبحانی صدیقی القادری چشتی، مولانا سید مظفر حسنی حسینی قادری مشائخ بالاپور، مولانا سید قادر پاشاہ بندہ نوازی، حافظ عبدالقدیر صادق، حافظ نور محمد نقشبندی، جناب محمد انور، جناب حبیب محی الدین افتخاری، جناب محمد انور علی اور دوسرے موجود تھے۔ آخر میں نماز ظہر اور ظہرانہ کے ساتھ اجتماع اختتام کو پہنچا۔

