مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہیں، دباؤ اور جبر قبول نہیں، سربراہ ایرانی عدلیہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام محسنی اژه‌ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے، لیکن ایسا کوئی مذاکراتی عمل قابل قبول نہیں ہوگا جو دباؤ یا دھمکی کی بنیاد پر مسلط کیا جائے۔ ایران صرف اسی مذاکرات کو قبول کرے گا جو منطق، عقلانیت اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز ترک نہیں کی اور ہمیشہ بات چیت کا حامی رہا ہے، مگر دشمنوں کی زیادتی اور یکطرفہ مطالبات کے سامنے جھکنا ایران کی پالیسی نہیں۔

محسنی اژه‌ای نے کہا کہ جو دشمن حملوں، دھمکیوں اور جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، وہ مذاکرات کی میز پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایرانی حکام اس موقف پر متفق ہیں کہ ایران دباؤ پر مبنی مذاکرات کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جنگ اور سفارت کاری ہمیشہ اور تسلسل کے ساتھ ایک دوسرے کے ہمراہ ہیں۔ یہ پالیسی رہبر انقلاب کے احکامات کے مطابق طے شدہ ہے۔ اگرچہ بعض افراد حسن نیت کے ساتھ مختلف رائے رکھتے ہوں، مگر انہیں بھی اپنے مؤقف کو قومی مفادات اور ملک کی اعلی پالیسیوں کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔

انہوں نے جنگ سے متعلق موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن جنگ سے خوفزدہ بھی نہیں۔ اگر ایران کی عزت و وقار کو خطرہ لاحق ہوا تو قوم اپنی عزت کے دفاع کے لیے بھرپور مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے مضبوط اور متحد موقف کی واضح مثال “جانفدایان ایران” کی مہم ہے جس میں 30 ملین سے زائد افراد نے نام لکھوایا ہے، جس نے دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔

چیف جسٹس نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت اور جنگی جرائم کے حوالے سے کہا کہ ان جرائم کے قانونی اور عدالتی پہلوؤں کی داخلی اور بین الاقوامی سطح پر پوری قوت کے ساتھ پیروی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگی مجرموں کا تعاقب کرے گا، انہیں سزا دلائے گا اور ان سے ہرجانہ بھی وصول کیا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *